قرطبہ کے خلیفہ سے ملاقات کا احوال

قرطبہ کے خلیفہ سے ملاقات کا احوال

آج قرطبہ شہر کے شاہی باغ کے قریب گھوم رہا تھا کہ ایک پارک سے گزرتے ہوئے ایک بارعب آواز سنی جیسے کسی نے مجھے پیچھے سے آواز دی ہو

مڑ کر دیکھا تو پارک میں کوئی نظر نہ آیا ڈر کے مارے برا حال ہونے لگا کہ آواز بھی خاصی گرجدار اور رعب دار تھی اچانک نظر پارک کے وسط میں پیوست ایک سفید پگھڑی پہنے ہوئے مجسمہ پر پڑی

سفید داڑھی والے بابا جی نے اشارہ کرکے پاس بلایا اور ایک بار پھر گرجدار آواز دی اے نوجوان کیا تم نے ہمارا حکم سنا نہی 

ہم ڈرتے ہوئے بابا جی کی جانب بڑھے قریب جا کر نظر تختی پر پڑھی جہاں لکھا تھا

ابن الکحم دوئم نو سو پندرہ عیسوی تا نو سو چھہتر عیسوی باباجی گویا ہوئے اے نوجوان کیا تم ہم کو پہچانتے نہی ؟

ہم نے جواب دیتے ہوئے کہا محترم بابا جی آپ کے بارے میں تاریخ اندلس میں کچھ پڑھا تو تھا سچ پوچھیں تو صرف نام کی حد تک ہی یاداشت میں محفوظ ہے 

آپ زرا خود ہی تفصیلی تعارف کروا دیجئے بابا جی گویا ہوئے ۔ نوجوان نام تو تم نے پڑھ لیا ہے نیچے تختی پر میں قرطبہ کا  خلیفہ رہا ہو نو سو اکھاسٹھ سے نو سو چھتر تک 961 to976

جب میں نے خلافت اپنے والد عبدالرحمن دوئم سے ورثہ میں پائی تو اس وقت تک اندلس میں مسلمانوں کی حکومت فوجی طور پر کافی مستحکم ہوچکی تھی اسی لئے میرے والد نے نئےعظیم صدارتی محل کے لئے نئے شہر مدینہ الزرہ کی تعمیر شروع کی اور ساتھ مسجد قرطبہ کی توسیع کا کام شروع کیا

جو میں نے اپنے دور میں مکمل کروایا میں چونکہ خود تعلیم سے شغف رکھنے والا انسان ہوں اسلئے قرطبہ شہر میں سترہ مفت تعلیمی ادارے قائم کئےاور ساتھ ایک شاہی کتب خانہ قائم کیا جس میں قریبا چار لاکھ کتب جمع کئیں ان کتب میں ہزاروں کتب ایسی تھیں جو میں خود مطالعہ بھی کر رکھی تھیں 

میں نے خلیفہ محترم سے سوال پوچھا کہ بابا جی گزشتہ ہفتہ میری ملاقات آپ کی زاتی سیکٹری لبنا سے ہوئی تھی وہ کہہ رہیں تھی کہ کتب خانہ کی نگرانی اور کتب کی خریداری کی ذمہداری آپ نے ان کے حوالہ کر رکھی تھی

بابا جی مسکرائے اور کہا ہاں وہ انچارج تھی ان خواتین کی ٹیم کی جن کا کام دمشق بغداد  سے خریدی گئی نئی کتب کی نقل تیار کرنا ہوتا تھا ہم نے ان ممالک میں اپنے نمائیدے مقرر کر رکھے تھے جو علما و مفکرین کی نئی تصنیفات کو حاصل کرکے قرطبہ ارسال کرتے تھے

میں نے خلیفہ سے پوچھا آپ کے زمانہ کو قرطبہ کا سہنری دور کہا گیا ہے اس کی کیا خاص وجہ ہے ؟

بابا جی نے بتایا چونکہ مجموعی طور پر ملک میں امن و امان تھا اسلئے معاشی ترقی عروج پر پہنچی تھی ساتھ چونکہ ہم علما و مفکرین کی سرپرستی فرماتے تھے اسلئے دنیا بھر سے علما اندلس آئے اور قرطبہ کی تہزیب و کلچر کےپھلنے پھولنے میں اپنا حصہ ڈالا

ہم نے قرطبہ کی گلیوں کو پھتر لگا کر پکا کیا اور اہم شاہراوں پر فانوس کی روشنی کا بندوبست کیا اسی دور میں طب کے کئی ماہرین نے اپنی کتب تحریر کئیں جن کی تفصیل تم مشہور مصنف ابن جلجل کی کتب میں پڑھ سکتے ہو

یہ ملاقات خاصی طویل ہوتی جارہی تھی ہم نے آخری سوال کیا باباجی آپ اس پارک میں کب سے کھڑے ہیں ؟

الحکم ثانی نے گہری سانس لی ہو بولے ایک وہ دور تھا کہ ہمارے اشارے پر پورا شہر چلا کرتا تھا اور اب ہم پھتر بنے کھڑے ہیں انیس چھتر سے1976سے جب ہماری ہزارویں برسی منائی گئی

ہم نے خلیفہ قرطبہ الحکم ثانی سے اجازت طلب کی اور قرطبہ شہر میں کسی اور بابے سے ملاقات کی لئے نکل کھڑے ہوئے

فیاض قرطبی

3 thoughts on “

قرطبہ کے خلیفہ سے ملاقات کا احوال

  1. ye statues na sirf intahai dilchasp hain balky hmari tareekh k akaas bhe hain. apka blog is hvaly se boht acha kaam kr raha hai.

  2. ماشااللّہ قُرطبی صاحب بہت اعلیُ
    اگلی بار خلیفہ جی کو ملے تو عرض کر دی جیے گا کہ آج کے زمانے میں سفید باریش کو بابا جی پُکارتے ہے نوجوان نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *