Ibn Hazim say aik mulaqat

Ibn Hazim say aik mulaqat

آج قرطبہ کی سیر کے دوران پرانی فصیل شہرکے پرانے دروازہ اشبلییہ کے سامنے پہنچا تو ایک
مجسمہ نظر آیا قریب پہنچا تو نیچے نام جانا پہچانا لگا Ibn Hazim

؛ ابن حزم

اتنے میں کانوں میں ایک سرگوشی سے گونجی میں نے دایں بایں نظر دوڑائی مگر کوئی شخص نظر نہ آیا
سرگوشی دوبارہ گونجی بیٹا یہ میں ہوں
میں حیران و پریشان ہوا یا الہی ماجرا کیا ہے
میں ہوں ابن حزم اندلسی جو تمہارے سامنے کھڑا ہوں
ایک عرصہ ہوا یہاں کھڑے ہوئے کھبی کوئی ایسا سیاح آیا نہی جس سے دل کی باتیں کہہ سکوں
میں نے ڈرتے ڈرتے بابے کی جانب نظر کی اور پوچھا
اے امام ابن حزم میں نے آپ کے بارے میں بہت کچھ پڑھا ہے کیا وہی ابن حزم ہیں جو دسویں صدی میں پیدا ہوئے تھے اور آپ کے والد وزیر تھے امیر قرطبہ منصور کے ؟
بابا جی بولے ہاں میں وہی ہوں کچھ عرصہ میں بھی دربار قرطبہ سے وابستہ مگر حکمران کی لڑائیوں میں قید و بند کی مصیبیتوں سے تنگ آکر میں نےگوشہ نشینی اختیار کرکے تدریس و تصنیف شروع کر دی تھی
جامع قرطبہ میں طلبا کو قران و سنت و فقہ کے درس دیتا رہا
میں نے بابا جی سے پوچھا؛
بابا جی میں نے یہ بھی پڑھ رکھاہے کہ آپ کی کتاب (پیار کی کبوتری) ring of dove نے سب سے زیادہ شہرت پائی جو پیار کے موضوع پر ایک جامع کتاب ہے اور آپ کے بعد سینکڑوں زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے،
بابا جی گویا ہوئے بیٹا میں نے تو کم و بیش اسی ہزار صفحات لکھے جو فقہ کے اصول،قرانی تفسیر،گمراہ فرقوں کے باطل عقائد، اور اندلس میں عرب قبائل کی تاریخ جیسے موضوعات تھے ان میں سے ایک کتاب یہ بھی تو جس کا مقصد پیار کے حقیقی مقاصد عوام کے سامنے لانے کے تھے کہ عشق حقیقی کیا ہوتا ہے اور انسانی ذہن کےخیالات اور دل کے جزبات انسان کو کیسے گمراہ کرتے ہیں ۔
بابا جی گہری سانس لے کر بولے یہاں ہزاروں سیاح برسوں سے آ رہے ہیں وہ میرے مجسمہ کے سامنے تصاویر بنا کر گزر جاتے ہیں اور مجھے افسوس ہوتا ہے کہ جو علم و عرفان کی باتیں میرے سینے میں دفن ہیں ان کا کوئی طلبگار نہی
میں نے بابا جی سے کہا آج آپ کا یہ گلہ دور ہو جائے گا میں آیا ہوں نے دل میں کچھ سیکھنے کے جزبات لئے
باقی آئیندہ قسط
۔۔۔۔۔۔۔۔،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کون کون ابن حزم کے علم و عرفان کی باتیں سننا چاہتا ہے ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *