ابن حزم اندلسی کی سرگوشیاں

ابن حزم اندلسی کی سرگوشیاں

گذشتہ سے پیوستہ

————————-

 باباجی گویا ہوئے 

اورابن حزم بولے میری داستان حیات سے تم واقف ہی ہو گے کہ کیسے میری حق گوئی کی پاداش میں شہر بدر کیا گیا اور اشبلیہ کے امیر نے میری تصانیف کو آگ میں جلایا کیونکہ میرے نزدیک علم کا پہلا ماخد رب کی ذات ہے اس کی جانب سے آنی والی وحی ہے 

مجھ سے پہلے دنیا میں ارسطو کا فلسفہ مشہور تھا کہ علم کے ماخذ پانچ حواس ہیں مگر میرے نزدیک وہ چھ ہیں ایک حس حق اور سچ کی ہے جو رب ودیت کرتا ہے انسان کی راہنمائی کےلئے

  میں نے بابا جی کی فلسفانہ گفتگو کو لمبا ہوتے دیکھا تو درمیان میں لقمہ دیا تاکہ بات مختصر ہو سکے

باباجی آپ کے متعلق تو بڑی متنازع باتیں مشہور ہیں جو ہم نے پڑھی تھیں مثلا آپ فقہ الظہری کے بڑے حامی اور مبلغ ہیں اور دوسرے مزاہب اور فرقوں کی رد میں کافی کتابچے لکھے 

بابا ابن حزم بولے ؛

ibn hazim of cordoba
ibn hazim of cordoba

بیٹا سنی سنائی باتوں کی بجائے تم خود ہی پڑھ لینا میری کتاب المحلی جس میں میں نے زندگی کے مسائل کو قران اور احادیث کے ساتھ اس وقت تک کے تمام فقی مزاہب کے اماموں کی رائے کے ساتھ پیش کیا ہے یہ کتاب فقہ پر ایک انسائیکلوپیڈیا ہے 
میں نے اپنی گھڑی کی جانب نظر دوڑائی تو بابا جی کی تیز نظروں نے بھانپ لیا کہ اتنی لمبی خشک گفتگو سے میں جان چھوڑانے کے چکر میں ہوں تو وہ بولے 

میں نے چالیس سالہ تصنیفی زندگی اور عملی زندگی میں جو سیکھا وہ علم کے موتی میں نے اپنی کتاب میں جمع کر دئیے تھے جس کا نام میں نے (مداوتہ نفوس )رکھا جس کو بعد میں لوگوں نے (اخلاق و السیر ) کا نام بھی دیا 

میں نے بابا ابن حزم سے دریافت کیا بابا جی ان علم کے موتیوں سے مختصرا ہم کو بھی نوازئیے نا آج 

 

بابا ابن حزم نے اپنی زندگی کا نچوڑ مجھے عنائت کرتے ہوئے کہا ؛
۱۔سامان دنیا کی خاطر قربانی دینے والی کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص لعل و جواہر کو کنکریوں کے عوض فروخت کر دے۔
۲۔ بہت سے لوگ ریاکاری کے اندیشے سے نیک کام چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ریاکاری کو ناپسند کرنے کایہ انداز شیطان کا ایک جال ہے۔
۳۔جس شخص کا طبعی رجحان جس علم کی طرف ہو اسے وہی سیکھنا چائیے ورنہ وہ اندلس کے علاقہ میں ناریل اور ہندوستان میں زیتون کاشت کرنے کی سعی ناتمام کررہا ہے
۴۔ مال و دولت و جسم اور صحت میں اپنے سے ادنی کو دیکھیں اور دین اور علم میں اعلی درجہ والوں کو
۵۔ غلط مشورہ یا رائےدینے والوں کے مشورہ پر تجربات کرکے اپنا وقت ضائع نہ کریں بجائے تجربہ کرکے اپنا نقصان کرکے اسے اس کا موجب کرار دے کر اسے شرمندہ کریں  
۶۔ علم اور اہل علم کو نقصان نااہل لوگوں کی اس سوچ کی وجہ سے ہوا کہ وہ بہت بڑے عالم ہیں
۷۔ بہت سارے کام ایک ساتھ کرنے کا انجام کوئی کام بھی مکمل نہی ہو گا
۹۔ حکمرانوں کے لئے سب سے بڑے نقصان کا باعث ان کے فارغ مشیر بنتے ہیں عقلمند حکمران وہ ہے جو انکو کسی کام پر لگائے رکھے
۱۰۔ اپنے کاموں میں اس فرد سے مدد لو جو اس کام سے اپ کی طرح فوائد چاہتا ہے  
۱۱۔ بدترین ظلم یہ ہے کہ کثرت سے برے کام کرنے والے سے اگر کوئی اچھا کام ہوجائے تو اسے تسلیم نہ کیا جائے 
۱۲۔ ابلیس کی چالوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کوئی برا کام کرئے اور عزر پیش کرئے کہ اس سے پہلے لوگوں نے بھی ایسا ہی کام کیا تھا
۱۳۔ عدل و انصاف یہ ہے کہ آپ واجبات ادا کریں اور اپنے وصول بھی کریں

 ۱۴۔ ظلم یہ ہے کہ اپنے واجبات تو لوگوں سے لیں مگر ان کے ادا نہ کریں
۱۴۔ جو شخص آپ کو آپ کی خامی سے آگاہ کرتا ہے وہ آپ کا دوست ہے اور جو آپ کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو معمولی سمجھا وہ آپ کا دوست نہی ہو سکتا
۱۵۔ دوستوں سے سسرالی اور تجارتی رشتہ بنانے سے پرہیز کریں دونوں میں فریق بن کر تعلقات میں کمی آئے گی
۱۶۔ جب کسی کو نصیحت کریں تو درپرہ کریں یا اشارہ و کنایہ میں کریں

 ۱۷۔ کچھ لوگوں کو اپنے حکمرانوں اور دوست کی خاطر اسی طرح غیرت آتی ہے جیسے شوہر کو بیوی اور عاشق کو معشوقہ کے بارے میں 
 ۱۸۔ اے انسان اپنی جسمانی قوت پر فخر نہ کر کیونکہ تم سے زیادہ قوت ہاتھی میں پائی جاتی ہے 

اپنی شجاعت پر فخر نہ کر کہ شیر و چیتا تم سے زیادہ شجیح ہیں

زیادہ وزن اٹھانے پر نہ فخر کر گدھا تم سے بوجھ اٹھاتا ہے 

بابا جی کی باتیں میں نے ذہین نشین کر لیں اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ نے اپنی زندگی کا نچوڑ مجھے مفت میں دے دیا

جاتے جاتے میں نے بابا ابن حزم سے کہا کہ میں نے پڑھا تھا کہ آپ کے دور میں قرطبہ آپ جیسے علماو فضلا سے بھرا پڑا تھا 

بابا ابن حزم بولے میری طرح کئی اور مفکرین بھی کھڑے ہیں مجسموں کے صورت قرطبہ کی گلی کوچوں میں ایک تو یہ میری بایں جانب کھڑا ہے ان سے بھی جا کر مل لو

میں نے دور کھڑے دوسرے بابے کی جانب قدم بڑھانے شروع کر دئیے 

آپ جاننا چائیں گے وہ کونسا عظیم مفکر تھا ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *