ابن رشد مسلم فلسفی کے میرے ساتھ گلے شکوے

ابن رشد مسلم فلسفی کے میرے ساتھ گلے شکوے

ابن رشد کے شکوے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج قرطبہ میں گھومتے پھرتے شہر کے قدیم محلہ خودریا(Juderia) یعنی یہودیوں کا محلہ میں شہر کے قدیم فصیل کے سائے میں ایک مجسمہ نظر آیا۔
قریب پہنچا تو نام ابو ولید ابن رشد (Averrors)لکھا دیکھا

ہم کیمرہ سے ایک عدد سیلفی لینے لگے تو بابا جی گویا ہوئے بیٹا سیلفی اپنی رسک پر لینا اور اسے دنیا کے سامنے نہ لانا ورنہ تم بھی ملحد مشہور ہو جاو گے

میں نے حیرانگی سے ابن رشد کی جانب دیکھا اور پوچھا بابا جی وہ کیوں ؟
بابا جی گویا ہوئے بیٹا شاید تم میری حیات کے متعلق نہی جانتے گیارہ سو اٹھائیس عیسوی میں اسی شہر میں پیدا ہوا تھا فقہ مالکی میں عبور کے بعد اشبلیہ کا قاضی مقرر کیا گیا اس سے پہلے میرے والد اور دادا بھی قاضی رہ چکے تھے۔
میری نظر ڈبوتے سورج کی جانب اٹھی کے مغرب کا وقت ہے اگر تفصیلی تعارف جاری رہا تو رات بیت جانی ہے میں نے کہا باباجی آپ کی حیات اور تصنیفات کے متعلق کچھ پڑھا رکھا ہے آپ مختصرا یہ سیلفی سے منع کرنے والے ٹاپک پر روشنی ڈالئے
ابن رشد گویا ہوئے بیٹا میں نے ارسطو کی متروک کتب (جمہوریہ )اور مابعد الطبیات و کو عربی میں ترجمہ کیا اور اس پر حاشیے لکھے اپنی رائے لکھی اس وقت تک فلسفہ کے بارے میں ارسطو حرف آخر سمجھا جاتا تھا
میں نے اس کے کئی نظریات کو دلائل سے غلط ثابت کیا اور کئی ادھورے فلسفی مباحث کو مکمل کیا
اس پر اس وقت کے کچھ لوگوں نے حسد میں میرے خلاف امیر ابو یوسف المنصور کو بھڑکا کر میری کتب کو جلوایا اور مجھے ملک بدر کر دیا۔
میں نے بابا جی سے کہا بابا جی آپ سے اپنے تو خفا تھے ہی غیر بھی آپ سے خوش نہی تھے تیرہویں صدی میں یورپ کی بیشتر یونیورسٹیوں میں ارسطو کی وہی تشریحات پڑھائی جاتی تھیں جو آپ نے لکھی ان پر اہل کلیسا نے مکمل پابندی لگوا تھی
باباجی بولے ہاں کچھ عرصہ تک یہ پابندی برقرار رہی کیونکہ اس علم کی روشنی سے پادریوں اور جاگیردار طبقہ کے گٹھ جوڑ کے خلاف تحریک بیداری منظم ہو رہی تھی جسے
میں نے بابا جی سے پوچھا لیکن یہ اپنے مسلمان علما بھی تو آپ کو ملحد قرار دیتے رہے اس کی وجہ کیا تھی
ابن رشد بولے اس کی اصل وجہ میری وہ تصنیف بنی جو ( تھافت التھافت )کے نام سے میں نے امام غزالی کی کتاب ( التھافت الفلسفہ ) کی جواب میں لکھی تھی امام غزالی جب تصوف کی طرف مائل ہوئے تھے تو انہوں نے یونانی علوم کو فتنہ قرار دے کر فلسفہ کو رد کیا تھا میں نے دلائل کے ساتھ ان کے اٹھائے گئے نکات کو رد کیا جس پر لوگوں نے مجھے گمراہ قرار دے دیا حالانکہ میں فقہ مالکی پر عبور رکھتا ہوں صرف و نحو اور علم حدیث پر میری کتب موجود ہیں
میں نے ابن رشد کے مجسمہ کے نیچے لگی تختی کو پڑھتے ہوئے بابا جی سے پوچھا آپ کے تعارف میں تو آپ کو ڈاکڑ بھی لکھا ہوا ہے کیا آپ طبیب بھی تھے
بابا جی نے لمبی سانس لی اور بولے بیٹا ہمارے زمانہ میں کوئی عالم اس وقت تک عالم نہی کہلاتا تھا جب تک وہ مختلف علوم و فنون میں ماہر نہ ہو جاتا تھا
میں نے اپنے دور کے مشہور ماہر طیب ابن ظہر سے اس شعبہ میں تربیت حاصل کے تھی اور میری طب پر ایک انسئاکلوپیڈیا (کتاب الکلیات فی الطب) بھی ہے جو لاطینی زبان ترجمہ ہو کر یورپ بھر میں مشہور ہو چکی ہے
بیٹا اسکے علاوہ میں نے طبعیات اور افلکیات پر رسائل لکھے تھے میری اکثر کتب یورپ کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر یونیوسٹیوں میں رائج رہی ہیں
افسوس تو اس بات کے کہ خود مسلمانوں نے اس کم فائدہ اٹھایا ۔ بیٹا بڑے عرصہ سے یہ شکوہ دل میں لئے کھڑا ہوں آج تم ملے تو بیان کرنے کا موقع میسر آیا

میں نے بابا جی کا شکوہ سنا تو اقبال یاد آ گئے جہنوں نے کہا تھا

مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارا

اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور ہم فصیل شہر کے ساتھ چلنے لگے اگلے بابے کی تلاش میں
اگلی بار قرطبہ کے کسی اور بابے کے ساتھ حاضر ہوں گے
فیاض قرطبی

img_0684

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *