قرطبہ کےماہر آشوب چشم ابولقاسم الغفیقی سے ملاقات

قرطبہ کےماہر آشوب چشم ابولقاسم الغفیقی سے ملاقات

آنکھوں کے سرجن بابے سے تعارف
———————————–
آج اتوار کی شام قرطبہ کی قدیم تنگ گلیوں میں گھومتے ہوئے ایک جگہ ایک سفید عمامہ پہنے چھوٹی داڑھی والے بابا کو ساقط کھڑے دیکھا
نزدیک جا کر پوچھا بابا جی آپکا کیا تعارف
بابا جی نے ایک دفعہ تو گھورا کہ یہ کون آ نکلا میرا تعارف پوچھنے والا
پھر گویا ہوئے بیٹا میں محمد ابن قاسم الغفیقی ہوں
(Muhammad ibn Qasim Al Ghafiqi)
گیارہ سو کچھ میں قرطبہ کے نزدیک ایک گاوں میں پیدا ہوا تھا علم طب حاصل کیا اور آنکھوں کے علاج میں تخصیص کی تھی
اور اسی موضوع پر کتاب (المرشد فی الکول) )
‏The right guide in Ophthalogomy)
لکھی تھی
اور علم الادویہ پر ایک کتاب (کتاب الادویہ المفرادات )
The book of simple drugs
لکھی تھی جس میں اپنے سے پہلے گزرے یونانی و مسلم اطبا کی تحقیقات کے ساتھ کچھ اپنی تحقیق اسپین اور مراکش کی جڑی بوٹیوں پر لکھی تھی

میں نے بابا جی سے پوچھا بابا جی اس زمانے میں آنکھوں کا علاج کیسے کرتے تھے جڑی بوٹیوں کا عرق وغیرہ ڈالتے تھے ؟
بابا جی مسکرائیے اور بولے بیٹا شاید تم نے اندلس کے تاریخ نہی پڑھی اور قرطبہ کے اطبا کی دریافتوں اور تجربات کا تم کو علم نہی کھبی تفصیل سے پڑھنا
میں نے انکھوں کی بیماریوں کی اصل وجہ دریافت کی تھی کہ دماغ کی کن ٹشوز یعنی خلیوں کے خراب ہونے سے انکھوں کی بیماری جنم لیتیں ہیں پھر اس کا آپریشن کے زریعہ باقاعدہ علاج کیا کرتے تھے
مجھے یہ بات سن کر فخر محسوس ہوا کہ آنکھوں کی سرجری کی بنیاد ڈالنے والے تو ہمارے آباو اجداد نکلے
میں نے بابا جی سے اخری سوال پوچھا کہ یہاں چوک میں کہاں کھڑے ہیں ؟
بابا جی نے بتایا کہ میری آٹھ سویں برسی 1965 پر قرطبہ کے اہل علم نے مجھے یہاں قرطبہ یونیورسٹی کے ایک کیمپیس کے سامنے کھڑا کردیا تاکہ میں طالب علموں کےلئے رول ماڈل کے طور پر ان کی آنکھوں کے سامنے رہوں
میں نے بابا جی سے ایک سیلفی لینے کی اجازت طلب کی اور اسکے بعد شہر میں کسی اور بابے کی تلاش میں چل پڑا
فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *