مسجد قرطبہ کا اہل کلیسا کو شکریہ

مسجد قرطبہ کا اہل کلیسا کو شکریہ

جامع مسجد قرطبہ کا اہل کلیسا کو شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،
میں مسجد قرطبہ جس کی تعمیر سات سو چوراسی عیسوی میں امیر قرطبہ عبدالرحمن اول نے شروع کی تھی جیسے الحکم اور منصور نے کشادہ کیاتھا
آج جیسے مسجد و کھتڈرل کے نام پکارا جاتا ہے
پچھلے آٹھ سو سالوں سے میرے متولی اہل کلیسا ہیں
آج میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں
کئی مسلمان یہ پڑھ کر سوچ رہے ہوں گے کہ میں ان عیسائیوں کا شکریہ کیوں ادا کر رہی ہوں جہنوں نے مجھے مسجد سے کلیسا بنا رکھا ہے

تاریخ میں ہر فاتح کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مفتوح علاقوں میں جو چاہیے کرے اور ہمیشہ فاتحین نے سابقہ تعمیرات کو تاراج کیا
قرطبہ میں مسلمانوں کو بارہ سو چھتیس میں جب شکست ہوئی تو فاتحین عیسائی حکمرانوں نے مجھے نیست و نابود نہی کیا بلکہ اسے اپنے رب کی عبادت کےلئے مخصوص کیا اور ان کا یہ کرنے کے پیچھے ایک دعوی بھی تھا کہ چونکہ یہ عمارت ایک چرچ تھی ایک عیسائی عبادت گاہ تھی جسے مسلم فاتحین نے مسمار کرکے میری بنیاد رکھی تھی
اسلئے اسے دوبارہ عیسائی عبادت گاہ بناہ دیا گیا
اس سے پہلے مسلمان حکمرانوں نے آپس کی لڑائیوں میں
میری طرح کی کئی مساجد کو بھی نہی بخشا تھا اور حجاج بن یوسف نے منجنیق سے میری ماں حرم پاک کی بے حرمتی کی تھی
میرے نزدیک ہی مدینہ الزرہ کی پوری بستی کو مسجد سمیت زمین بوس کر دیا تھا
ایسے میں اگر اہل کلیسا نے میری ظاہری شکل و صورت تھوڑی بہت تبدیلی کرکے مجھے کھڑا رہنے دیا اور مجھے رب کی عبادت کےلئے ہی استعمال کیا تو یہ ان کی مہربان ہے
اگر یہ چاہتے تو آج میں یہاں کھڑی نہ ہوتی
نہ ڈاکٹرمحمد اقبال کو مجھ پر وہ نظم لکھنے کا موقع میسر آتاجسے مسجد قرطبہ کے نام سے دنیا جانتی ہے
نہ لاکھوں سیاح ہر سال مجھے دیک کر اندلس کی عظمت رفتہ سے آگاہ ہو پاتے
آج اگر میرے ستون قطار در قطار کھڑے ہیں اور میری محراب میریے ماضی کی یاد دلاتی ہے تو اس پر اس کے متوالیوں کا شکریہ ادا کرنا تو بنتا ہے

فیاض قرطبی

img_0705

img_0704

2 thoughts on “

مسجد قرطبہ کا اہل کلیسا کو شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *