قرطبہ کا عرضی نویس بابا جو وزیراعظم بنا سے ایک ملاقات

قرطبہ کا عرضی نویس بابا جو وزیراعظم بنا سے ایک ملاقات

آج قرطبہ کی قدیم گلیوں میں سیر کر رہا تھا کہ ایک عمارت کے باہر ایک عرضی نویس بابا بیٹھا نظر آیا ہم نے بابا جی سے پوچھا آپ یہاں کس سلسلہ میں تشریف فرما ہیں ؟ آج کا دور تو عرضی کا دور نہی زمانہ ترقی کر گیا ہے واٹس اپ ،برقی خط کا زمانہ ہے
بابا جی نے گہری سانس لی اور گویا ہوئے
میرا نام ابو عامر محمد بن ابی عامر ہے لیکن اہل اندلس مجھے المنصور Almazor کے نام سے پہچانتے ہیں
نو سو اڑتیس ۹۳۷میں پیدا ہوا اور ادب و فقہ کی تعلیم کے بعد قرطبہ میں عرضی نویسی سے اپنی گزر بسر شروع کی دربار قرطبہ میں الحکم ثانی کے سامنے سائل جب میرے ہاتھ کی لکھی عرضی لے کر جاتے وہ ہمیشہ خلیفہ مسکراتے ہوئے سائل کی عرضی کو قبول کرتے
میری دلچسپی بڑھنے لگی کے یہ بابا جی تو کمال کے لگتے ہیں جن کی تحریر پر خلیفہ پڑھ کر عمل درآمد شروع کروا دیا کرتا تھے
بابا جی پھر گویا ہوئے
خلیفہ میری دانائی اور حکمت سے قائل ہوگئے عرضیاں پڑھ پڑھ کر انہوں نے مجھے قاضی قرطبہ مقرر کردیا
میں نے کچھ دنوں بعد وزیر تجارت کو اپنی عدالت میں بلا کر ذاتی کاروبار کےلئے ذخیرہ اندوزی پر سزا کا اعلان کر دیا یوں خلیفہ اور دربار میں میری دانائی و حکمت کے ساتھ جرت بھی مشہور ہوگئی
بدقسمتی کہیے اندلس کی یا خوش قسمتی کے نو سو چھتر میں الحکم ثانی وفات پا گئے اور اپنے بارہ سالہ بیٹا ہشام کو جانشین مقرر کر گئے
کچھ ہی عرصہ میں اندلس کی سرحدی علاقوں میں عیسائی ریاستوں نے بغاوتیں شروع کر دیں
ہشام کی والدہ صباح نے مجھے اپنے بیٹے کا اتالیق مقرر کر دیا
میں نے جب اندلس کے علاقوں کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو حکمت کے ساتھ ملکہ سے اپنے آپ کو وزیر بنوا لیا اور آہیستہ آہستہ میں نے الحاجب یعنی وزیراعظم کا عہدہ کرلیا
ہشام چونکہ نابالغ تھا اسلئے امور سلطنت ملکہ میرے زریعہ سرانجام دینے لگی
یوں کچھ عرصہ بعد میں نے عملی طور پر اندلس کی بھاگ دوڑ سنھبال لی اور الجیریا و مراکش سے بربر قبیلہ کی ایک فوج منگوا کر باغی عیسائی ریاستوں میں ان کی سرکشی ختم کرنا شروع کی
میں نے بابا جی سے پوچھا بابا جی یہ المنصور کیوں کہا جاتا ہے آپ کو ؟ اور ایک یہ الزام بھی ہے کہ آپ نے قرطبہ میں اپنے مخالفین کا قتل عام کیا تھا
بابا جی مسکرائے اور بولے بیٹا سیاست میں ہمیشہ وہی کامیاب ٹھہرتا ہے جو بروقت اپنے چال چلتا ہے ریاست پر کنڑول کی سازشیں کرنے والوں کو چھوڑ دیا جائے تو ریاستیں زیادہ دیر قائم نہی رہتی اسلئے مخالفین کا قلع قمع کرتا رہا
باغی عیسائی ریاستوں پر میں نے ستاون حملے کئے اسلئے مجھے لوگوں نے (المنصور) یعنی فاتح کا لقب دے دیا۔
یہ عرضی نویس سے حاجب کا سفر کرنے والے بابا جی دس سو تین ۱۰۰۳میں فوت ہوئے
ہم قرطبہ کی قدیم گلی میں بابا جی کو چھوڑ کر اگلی منزل کی جانب چل پڑے
فیاض قرطبی

img_0717

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *