عباس ابن فرناس دنیا کے پہلے ہوائی باز سے مکالمہ

عباس ابن فرناس دنیا کے پہلے ہوائی باز سے مکالمہ

ٍآج قدیم قرطبہ سے بزریعہ کار باہر نکلا تو شہر قرطبہ سے باہر ائیر پورٹ جانے والی سڑک پر دریا کبیر کے اوپر ایک پل پر نظر پڑی جو ایک اڑنے والے شخص کی مانند ہاتھ پھیلائے لگ رہا تھا
تجسس کی وجہ سے گاڑی ایک جانب کھڑی کی اور پل کے قریب گیا پل کے اختتام پر دریا کبیر کے کنارے ایک ہیولہ سے نظر آیا اس کی جانب قدم بڑھائے
قریب پہنچا تو تختی اسپنیش زبان میں لگی نظر آئی
عباس ابن فرناس Abass ibn Fernas
میں نے بابا جی کو مخاطب کرکے ان سے پوچھا آپ کون ہیں ؟
وہ گویا ہوئے بیٹا پہلے تو تمہارہ شکریہ کہ ایک طویل مدت بعد کوئی میرے پاس آئے کیونکہ میں عام شاہراہ سے ہٹ کر ہوں اس لئے اکثر سیاح اس جانب نہی آتے
میں عباس ابن فرناس ہوں بربر نسل سے تعلق رکھتا ہوں اور اندلس کے سنہری دور حکومت جب عبدالرحمن دوئم خلیفہ تھے میں آٹھ سو دس عیسوی 810 میں ایک گاوں روندا Ronda میں پیدا ہوا تھا
ابتدائی تعلیم کے بعد علم و ہنر کے مرکز قرطبہ Cordoba آگیا اور یہیں پر میں نے زندگی گزار دی
میں نے بابا جی سے پوچھا بابا جی اس پل کو آپ کے نام سے منسوب کیا ہے اسپین کی حکومت نے اور ساتھ یہ اڑنے والی صورت بنائی ہے آپ کا اس سے کیا تعلق ہے ؟
بابا جی بولے
میں ایک انجینر تھا مختلف اشیا بنانے کے تجربات کرتا رہتا تھا جن میں کچھ کامیاب اور کچھ ناکام ہوتے تھے
یہ بھی میرے ایک ناکام تجربہ کی یادگار ہے میں نے پرندووں کو اڑتے دیکھ کر مشاہدہ کیا کہ وہ کیسے اڑتے ہیں اسی طرح میں نے اپنے بازوں کے ساتھ لمبے بانس لگا کر پر بنا کر اڑنے کی کوشش کی تھی اور اس میں شدید زخمی ہوا
اس کے علاوہ میں نے پانی سے چلنے والا گھڑی تیاری کی تھی جسے المقطہ کانام دیا تھا اور میں نے شیشے کے برتن اور شیشے کے بغیر رنگ کے پائپ بنائے
میں حیران ہو رہا تھا کہ ہمیں تو بچپن میں اسکول کے نصاب میں یہ کھبی بھی نہی پڑھایا گیا تھا ہم تو ہر ایجاد کو یورپ کے گوروں کی دریافت سمجھتے رہے
بابا جی نے مجھے خیالوں میں مگن دیکھا تو بولے بیٹا
مجھے یہ خوشی ہوئی کہ تم جیسا طالب علم میرے پاس آیا تاکہ میرا تعارف دنیا کو کرواسکے
بیٹا میرے نام پر عراق میں ایک ائیرپورٹ بنا ہے اور ناسا نے چاند کے ایک حصے کا نام بھی میرے نام پر رکھا ہے لاطینی میں مجھے Armen firman کے نام سے پہچانا جاتا تھا اسلئے یورپین کتب میں میرا ذکر اس نام سے ملتا ہے
تیز ہوا اور ٹھنڈک نے مجھ پر کپکپی طاری کردی ہم بابا جی کو چھوڑ کر گاڑی کی طرف بھاگے تاکہ ٹھنڈک سے چھٹکارا مل سکے
سفر جاری ہے دیکھیے اگلے موڑ پر کس بابا جی سے ملاقات ہوتی ہے

img_0722

img_0723

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *