دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستاں

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستاں

جب مولوی کو زبردستی پینٹ پہنائی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انیس سوچھیانوے میں جب ہمارے بڑے بھائی ملائشیا میں کام کرنے کے ایک سال بعد واپس تشریف لائے تو اس دفعہ ہمیں بھی ساتھ لے جانے کا اردہ بن گیا
ہمارے محلہ کی مسجد کے مولوی صاحب کو کسی زریعہ سے پتہ چلا کہ آج کل ملائیشا میں کام کی غرض سے لوگ جا رہے ہیں اور بھی بہت واجبی سے خرچہ پر تو وہ ایک سفارشی دوست کو ہمراہ لے آئے
بڑے بھائی نے سمجھانے کی کوشش کی کہ مولوی صاحب پردیس میں حالات بڑے سخت ہوتے ہیں مزدوری کافی سخت ہے بحرحال مولوی صاحب کے سفارشی دوست کے اصرار پر کہ یہاں بھی گزارہ نہی ہوتا اسلئے ان کو قسمت آزمانے کےلئے ساتھ لے جائیں
دینہ سے کراچی بزریعہ ٹرین روانہ ہوئے اور کراچی پہنچ کر ہوٹل میں قیام کے بعد دوسرے دن ائیرپورٹ جانے کی تیاری شروع کی ۔
اب مسئلہ یہ سامنے آیا کہ مولوی صاحب پینٹ شرٹ ہمراہ نہی لائے تھے ایک دوست نے فورا دوکان کا رخ کیا اور ان کے سائز کی پینٹ لے آئے
اب پینٹ تو آگئی اب مولوی صاحب شرمانے لگ پڑے کہ انہوں نے زندگی میں کھبی پینٹ پہنی نہی
دوستوں نے تقریبا زبردستی کرتے ہوئے مولوی صاحب کو پینٹ کے اندر ٹھونسا اور سفر پر روانہ ہوئے
مولوی صاحب کار میں بھی شرمائے شرمائے بیٹھے تھے
جیسے کوئی دوشیزہ غنڈوں کے درمیان گر گئی ہو
کراچی سے سنگاپور کی فلائیٹ تھی ان دن سنگاپور بغیر ویزہ جایا جا سکتا تھا ہمراہ پانچ سو ہزار ڈالر لے کر جانے ہوتے تھے جو بوقت ضرورت سیاحت کے کئے خرچ کے طور پر دیکھانے ہوتے تھے
سب دوستوں کو امیر سفر نے یہ معلومات دی کہ سنگاپور بغیر ویزہ کے جانے کےلئے صرف ٹکٹ چائیے اور ہزار ڈالر بوقت ضرورت ائیرپورٹ عملہ کو دیکھانے کےلئے ہیں کوئی رشوت نہی دینی نہ ڈرنا ہے کیوں آپ بلکل قانونی طور پر جا رہے ہیں
ہم چار دوست امیگریشن ڈسک سے گزر کر اندر لاوئج میں پہنچ گئے مگر مولوی صاحب نظر نہ آئے کافی دیر بعد تشریف لائے ہم نے لیٹ ہونے کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ امیگریشن والوں نے بیٹھا لیا تھا دو سو ڈالر دے کر آیا ہوں فلائیٹ کا وقت ایک گھنٹہ رہا گیا تھا اور وہ کہہ رہے تھے کہ میں سیر کےلئے نہی ملائیشاکام کےلئے جا رہا ہوں
ہم مسکرانے لگے کہ مولوی صاحب جیسے سادہ بندوں کی وجہ سے ائیرپورٹ عملہ کی موج لگی ہوئی ہے
فیاض قرطبی
باقی آئیندہ قسط میں

img_0741

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *