مہاتیر محمد کے دیس ملائشیا میں

مہاتیر محمد کے دیس ملائشیا میں

چلو چلو دوبئی چلو سے چلو چلو ملائیشا چلو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنگاپور جزیرہ کا رابطہ ملائشیا سے سمندر کے اوپر بنے واحد پل کے زریعہ قائم ہے سنگاپور سے ملائیشا انٹر ہونے کے لئے چند ہیوی بائیک والوں کا بندوبست تھا ایک ڈرائیور کے پیچھے ہلمٹ پہن کر ایک فرد بیٹھ کر پل کراس کر سکتا تھا کیونکہ بائیک والے روزانہ سنگاپور اور ملائشیا کا سفر کرنے والے تھے اسلیے بنا روکے ٹوکے ملائیشا میں داخل ہو گئے
بتایا گیا کہ یہ JB شہر ہے یعنی جوہر بارو یہاں بڑے شہروں کے نام انگلش میں مخفف کر کے پکارے جاتے ہیں
جے بی سے اب ہمیں Klجانا تھا یعنی کوالالمپور جو ملائیشا کا درالحکومت تھا ان دنوں ملائیشا ایشیا کا سب سے زیادہ ترقی کرنے والا ملک بن رہا تھا اسی لئے پاکستان میں دوبئی چلو کی مہم کی بجائے ملائشیا چلو کی ہوا چل رہی تھی
جے بی سے بس کے زریعہ کوالاالمپور کا سفر شروع کیا
بس اسٹیشن اور سڑکیں کشادہ اور نئی تعمیر کردہ لگ رہی تھیں شہر میں دنیا کی اونچی ترین بلڈنگ ٹاورز کے ساتھ انڈر گرونڈ اور آور فلائی زیر تعمیر تھے پاکستانیوں کی اکثریت بطور مزدور یہاں مزدوری کر رہی تھی اس وقت ملائیشین کرنسی رنگٹ کی پاکستانی قیمیت ستائیس روپے چل رہی تھی اور عام مزدور کی دہاڑی پچیس سے تیس رنگٹ تھی
ملائشیا کی آبادی کا تقریبا پھینسٹھ فی صد ملے نسل اوربیس بائیس فی صد چائینی اور بارہ تیرہ فیصد انڈین نسل ہے چائینی لوگ بڑے کاروباروں میں چھائے ہوئے ہیں
شہر میں گھومتے وقت ہر جانب ملے نسل کی لڑکیاں اسکارف میں ملبوس نظر آئیں ہیوی بائیک کے پچھلی سیٹ جو انتہائی اونچی ہوتی ہے جس پر بھیٹھنے والا ڈرائیور کو پکڑ کر بیٹھتا ہےپر اکثر اسکارف والی لڑکیاں دیکھائی دیں پارکوں میں بھی مختلف جہگوں پر اسکارف والی لڑکیاں نوجوانوں کے ساتھ ڈیٹ مارتی نظر آئیں ہم اسے کھلے تضاد پر حیران تھے کہ اسکارف جو مذہبی فریضہ سمجھ کر اوڑھا جاتا ہے اسکو پہن کر کھلم کھلا لڑکوں کے ساتھ گھومنا ڈیٹ ماری جا رہی ہے
ہماری رہائش بھائی کے ملائیشن دوست کے لکڑی کے بنے ہوئے چھوٹے کیبین نما گھر میں ہوئی کوالالمپور کے اندر کئی ایسی بستیاں قائم تھیں جہائیں مختلف گاوں سے آنے والوں نے لکڑی کے کیبن بنا کر گھر بنا رکھے تھے
جدید طرز تعمیر کی بڑی بڑی بلنڈنگز کی تعمیر شروع ہوتے ہی ایسی بستیوں کو معاوضہ دے کر خالی کروایا جا رہا تھا کوالالمپور میں جگہ جگہ وژن 2020کے بورڈ آویزاں تھے مہاتر محمد کا وژن تھا کہ اس تاریخ تک ملائشیا کو یورپ کے برابر لا کھڑا کیا جائے گا

سفر جاری ہے باقی آئیندہ

img_0754

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *