کھانا پکانے کی آسان ترکیب

کھانا پکانے کی آسان ترکیب

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان کی قسط چہارئم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس لکڑی کے گھر میں میری رہائش تھی وہ ریاض بھائی کے ایک ملائشین دوست کا تھا جو خود کھانے کا کھوکھا چلاتا تھا اسکا نام ازمان تھا اس چھوٹے سے کیبن میں پانج افراد تھے میرے سمیت تین فیصل آباد کے لڑکے تھے جو ایک بلڈنگ کی تعمیر میں مزدوری کرنے کےلئے صبح جاتے شام کو واپس آکر کھانا بناتے
ان لکڑی کے کیبنوں کا ایک مشترکہ غسل خانہ تھا جو بوقت ضرورت سب باری باری استعمال کرتے تھے

تین چار گزر جانے کے بعد میں نےان میں ایک لڑکے سے پوچھا کہ بھائی میں گھر میں فارغ ہوتا ہوں آپ مجھے کھانا بنانا سیکھا دیں تاکہ جب آپ آئیں تو کھانا بنا ہو اور ساتھ میں بھی مصروف ہو جاوں
اسنے کہا یہ کونسا مشکل کام ہے سمپل فارمولا ہے دیگچی آدھی پانی سے بھرو حسب ذائق نمک مرچ پیاز کاٹ کر اسمیں تیل ڈال کر چولہے پر رکھ تو جو چیز پکانی ہو وہ صاف کر کے ڈال دو اور ٹی وی چینل لگا لو
اور فلم دیکھو جب گھانے آئے جا کر ہانڈی کو چمچے سے ہلا دو ادھر فلم ختم ہو گی ادھر ہانڈی تیار
ملائشیا میں ہفتہ میں دو سے تین دن ٹی وی پر انڈین فلم لگتی تھیں
ایک دن بھائی کے ساتھ ورک سائٹ کی سیر کو نکلے جہاں دوسرے بھائی اعجاز مزدوری کررہے تھے یہ شہر کے اندر آور فلائی کے پلر بن رہے تھے وہیں بھائی نے کہا تم کو ٹھنڈی کافی پلاتے ہیںں ایک دوکان سے کولڈ کافی لی جو پلاسٹ بیگ میں سٹرا ڈال کر زندگی میں پہلی بار پی وہاں سے دنیا کی سب سے بڑی اونچی بلڈنگز ڈبل ٹاورکے پاس تعمیر ہونے والی انڈر گرونڈ میٹرو کی سائٹ پر گئے جہاں ہمارے محلہ کے دوست راجہ وحید کام کرتے تھے ان کے ساتھ کئی پاکستانی اور انڈین سکھ بھی کام کررہے تھے اور ایک پاکستانی انجنئیر جو برٹش تھا وہ بھی کام کی نگرانی کر رہا تھا
سائٹ پر کینٹینروں میں مزدورں کےلئے رہائشوں کا انتظام کیا گیا تھا
ملائشیا کی سیاحت ختم ہوئی اور اگلی منزل کی ٹکٹ خریدنے ایک کثیر منزلہ بلڈنگ میں گئے بھائی نے بتایا کہ یہ بلڈنگ ایسے ادارے کی ملکیت جو لوگوں کی تنخواہ سے ہر ماہ کچھ رقم کاٹ کر اس کی مدد سے کاروبار کرتا ہے اور ہر سال ہزاروں ملائیشنز کو حج پر بھیجتا ہے
اگلی منزل کونسی تھی ؟ جانیے اگلی قسط میں

img_0777

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *