لندن کے دریائے ٹائمز کے کنارے

لندن کے دریائے ٹائمز کے کنارے

(دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط ششم)

لندن کے ائیرپورٹ پر اترے تو ذہن میں یہ
تھا کہ گوروں کی زمین پر ہر جانب گورے ہی گورے نظر آئیں گے لیکن ائیرپورٹ کے امیگریشن عملہ سمیت سیکورٹی اور ڈیوٹی فری شاپس میں انڈین ،پاکستانی ،بنگلہ دیشی، افریقی کثیر تعداد اور انگریز اکا دکا دیکھائی دیا

لندن میں ہمارے ماموں کافی عرصہ سے رہائش پذیر تھے ہمارا قیام ان کے گھر ہوا یہ علاقہ سیاہ فام افریقی کا گڑھ تھا کوئی اکا دکا پاکستانی یا ترکش عربی لوگ رہائش پذیر ہیں
موسم سخت سردی کا تھا لیکن گھر کے ہر کمرے میں سینڑل ہیڈینگ کا نظام تھا جس کا کنیکشن اس محلہ کے مشترکہ گیزر سے جڑا ہوا تھا جو کہ لوکل حکومت نے لگا رکھا ہے

بڑے بھائی جان جو بچپن سے برطانیہ میں رہائش پزیر ہیں نے ہم دونوں بھائیوں کو لندن انڈرگرونڈ ٹرین جسے میٹرو کہا جاتا ہے کے ماہانہ پاس لے دئیے اور کہا پورا مہینہ خوب سیر کرو کوئی اسٹیشن نہ چھوڑو میڑو کا
بڑے بھائی کی اس آفر کا اس وقت تو کچھ فائدہ سمجھ نہ آیا یا کوئی منطق سمجھ نہ آئی لیکن کچھ سالوں بعد یہ حکمت سمجھ آئی کہ یورپ میں جب آپ ایک دفعہ کام /مزدوری پرلگ گئے تو پر گھومنے پھرنے کےلئے اتنا وقت باقی نہی بچتااسی لئے انہوں نے کہا کہ خوب گھوم پھر لو دل کے ارمان پورے کر لو
لندن شہر کے بارے ایک طرف سرسید احمد کے مضامین میں پڑھ رکھا تھا اور ساتھ مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامے میں پڑھا رکھا ہے جس میں دریا ٹائمز کے دلکش مناظر اور تخلیاتی منظر پیش کیے گئے تھے انڈین فلمز میں بھی بارہا انگلینڈ اور لندن کے حسین مناظر دیکھائے جاتے تھے

ہم دریا ٹائمز پر بنے پلوں سے کئی بار گزرے مگر ہمیں وہ ایک عام سا دریا ہی لگا ماسوائے کھل جانے والے پل کہ جو بحری جہاز کے آنے پر کھل کر اوپر ہو سکتا ہے
جسے لندن برج London Bridge کہا جاتا ہے
سنگاپور اور ملائیشا کی جدید تعمیرات دیکھنے کے بعد لندن کی عمارتیں اور طرز تعمیر پرانا لگتا ہے

انگریزوں نے اپنے ویکٹورین طرز تعمیر کو برقرار رکھا ہوا حالانکہ جدید تعمیرات کرنا ان کےلئے مسئلہ نہی لیکن وہ اپنے ماضی اور اپنے فن تعمیر کے معاملے خاصے قدامت پسند واقع ہوئے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *