ایک یتیم کی کہانی جو کروڑوں انسانوں کے دلوں کی دھڑکن بنا

ایک یتیم کی کہانی جو کروڑوں انسانوں کے دلوں کی دھڑکن بنا

ماہ ربیع الاول کی نسبت سے ادنی کوشش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس سے بارہ سال کے معصوم بچے کو اس کے عمر بچے تنگ کر رہے تھے اسے یتیمی کا طعنہ دیا جا رہا تھا کھبی آوازیں کسی جا رہی تھیں لیکن آگے سے جواب میں پرسکون چہرہ اور ایک مسکراہٹ۔
گھر جا کر چاچا اور دادا جو اس کے خاندان کے سربراہ تھےسے بچوں کی شکایت لگا کر ان کو اپنے گھروں سے پٹوایا بھی نہی۔
پچپن سے ہی اس نے ماں باپ کو نہ دیکھا تھا
اس کی پرورش چاچا اور دادا نے کی
عموما ایسے بچے احساس محرومی اور احساس کمتری کا شکار ہو جایاکرتے ہیں لیکن اس بچے کی طبعیت ہی نرالی تھے دو تین سال کا بھی تھا تو اپنی دائی کو کھبی تنگ نہ کیا تھا جہاں وہ بیٹھاتی بیٹھا رہتا جو کھلاتی کھا لیتا نہ رونا نہ کسی چیز کی ضد

پندرہ سولہ سال کی عمر تک اس نے اپنے ہم عمر لڑکوں کو اپنے اچھے اخلاق اور بردباری سے اپنا گرویدہ بنا لیا اور ان کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوئی بے ہودہ مذاق نہی کریں گے نہ کسی کو تنگ کریں اور ظلم کے خلاف مل کر آواز بلند کریں گے اور باقاعدہ ایک حلف تیار کیا
بڑھتی عمر کے ساتھ اہل علاقہ میں اسکی خوش اخلاقی امانت دیانت اور اسکی حیا کے چرچے زبان زرد عام ہونے لگے
اکیس سال کی عمر تک پہنچے تو شہر کے معزز خاندان کی ایک تاجر بیوہ نے اپنی تجارت کےلئے ان کو کام کرنے کی پیش کش کی ۔
گزشتہ تجارتی قافلوں کی نسبت اس دفعہ ان خاتون کو نفع حد سے زیادہ ہوا اور دیگر کام کرنے والوں کی جانب سے ان کے بارے میں کوئی شکایت بھی نہ ملی

ایک دن گھر پہنچے تو چاچا نےپاس بیٹھا کر پوچھا کہ فلاں خاتون جو عمر میں تم سے پندرہ سال بڑی اور بیوہ ہیں نے آپ سے شادی کا پیغام کسی کے زریعہ بھیجا ہے کیا خیال ہے ؟ تم جوان ہو تم کو اپنا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے
آگے سے جواب دیا آپ خاندان کے بزرگ ہیں آپ جو مناسب سمجھیں مجھے منظور ہے
یوں زندگی کے دوسرے حصہ کا آغاز ہوا شادی کے کچھ عرصہ بعد شہر کی گہماگہمی سے کچھ وقت نکال شہر سے باہر اونچے پہاڑ پر پرسکون جگہ بیٹھ کر فطرت کے مظاہر پر غورو فکر کرنا شروع کردیا

کیا آپ اس یتیم کی کہانی کے اگلے باب کو پڑھنا چاہتے ہیں ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *