نشہ جو شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل ؟

نشہ جو شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل ؟

نشہ جو ہوتا شراب میں تو ناچتی بوتل
(دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط ہشتم)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن کی میڑو کے زریعہ شہر کی سیر کرنے کے بعد کام کی تلاش شروع ہوئی تو ماموں نے ایک جاننے والے کے زریعہ Dalston کے علاقہ میں قائم ایک گوشت کی دوکان پر بات کی جو ایک کشمیری کی ملکیت تھی
لندن کے ہر علاقہ میں ہفتہ وار بازار لگتے ہیں جہاں لوگ اپنے پورے ہفتہ کی خریداری سستے داموں کرلیتے ہیں یہ دوکان بھی ایسی سڑک کے شروع پر واقع تھی
جب یہ مارکیٹ لگتی تھی لندن میں گوشت کی زیادہ تر دوکانیں پاکستانیوں کی ہیں
اس دوکان کے گاہکوں کی اکثریت افریقی نسل سے تعلق رکھتی تھی ویک اینڈ پر اتنا کام ہوتا کہ دو تین افراد اضافی رکھے جاتے کام کے لئے
دوکان کے اصل مالک تو کوئی اور تھے مگر ڈڈیال کے عبدالرحمن صاحب نے یہ دوکان دوہزار پونڈ ٹھیکہ پر لے رکھی تھی ہماری رہائش دوکان کے اوپر قائم فلیٹ میں ہی تھی
شام کو کام ختم کرنے کر بعد بھائی عبدالرحمن اپنے کمرے میں پھوٹھواری صوفیانہ شاعری کی ویڈیو لگا لیتے اور ساتھ بئیر (شراب کی ایک قسم جس میں الکحول کی ہلکی مقدارہوتی ہے) کے ڈبے پینا شروع ، جیسے جیسے شراب کا نشہ بڑھتاویڈیو کی آواز بلند ہوتی جاتی
اکثر مجھے دوسرے کمرے سے آواز لگا کر بلاتے اور کہتے مولوی سنو رمز کی باتیں
اور ہمیں باامر مجبوری صوفیانہ شاعری کے حق میں اور پوٹھواری شاعری کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کرنا پڑتا۔
اس علاقہ میں ہر روڈ پر سکیورٹی کیمرے لگائے گئے تھے جن کو لندن پولیس اپنے کنٹرول روم سے کنٹرول کرتی تھی اسکے باوجود افریقی نسل کے نوجوان چوری سے باز نہی آتے تھے
اور اکثر کوئی نہ کوئی چیز سستے داموں بیچنے ہماری دوکان پر بھی آتے
ایک دن کالے رنگ کے بڑے لفافے میں کوئی چیز اٹھائے ایک کالا دوکان پر تیزی سے آیا اور بولا برو یہ چیز لینی ہے تو جلدی سے لے لو دو سو پونڈ کی
ہم نے دیکھانے کا کہا تو اس نے شاپر کھولا تو اندر ہزاروں پونڈ ملکیت ویلیو کا وہی سکیورٹی کیمرہ تھا جو پولیس نے ان چوروں کو پکڑنے کےلئے لگایا تھا

img_0821

img_0820

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *