لندن کے پاکستانی قصائی کی دہشت کا راز

لندن کے پاکستانی قصائی کی دہشت کا راز

لندن کے پاکستانی قصائی کی دہشت کا راز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(دینہ سےقرطبہ ہجرت کی داستان قسط نہم)
لندن میں قصائی بننے کے بعد ہم جب بھی بس میں سفر کرتے اکثر بس میں لوگ ہم سے ایک سیٹ چھوڑ کر بیٹھا کرتے جیسے اسوقت ٹوکا ہمارے ہاتھ میں ہو۔
ہم نے اندازہ لگایا کہ یہ ہمارے پاکستانی ہونے سے ڈرتے ہیں نسل پرست ہیں اسلئے دور دور بیٹھتے ہیں
یہ انکشاف کچھ عرصہ بعد ہوا جب ہم نے قصاب کا کام چھوڑ دیا تھا ایک دن بس میں سفر کررہے تھے کہ ایک ایشائی فرد ہمارے قریب آکر بیٹھا اسنے نئی پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی لیکن جیسے ہی بیٹھا اس سے گوشت کی مخصوص بو ہمیں محسوس ہونے لگی اور ہمارے دماغ میں اپنے ماضی کی فلم چل پڑی کے ہم بھی کام کے بعد نہا کر کپڑے بدل کر اپنی جانب سے گوشت کی بو سے چھٹکارہ پا کر جب بس کا سفر کیا کرتے تھے تو لازما ایسی بو دیگر لوگ محسوس کرتے تھے اور ہم ان کو نسل پرست سمجھتے رہے بے اختیار ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ آ گئی
ڈالسٹن میں کام سے جس دن ریسٹ ہوا ہم نے مقامی لائبریری کا پتہ معلوم کیا جو کہ ہیکنی Hackney کے علاقہ میں تھی جاکر کارڈ بنوا لیا برطانیہ کی لابرئیریوں میں ہر قوم کی زبان کے مطابق کتب سکیشن بنے ہوئے ہیں اردو ہندی بنگالی چائینی وغیرہ
لندن کے قیام کے دوران برٹش میوزیم کی سیر بھی کی
یہ بھی عجیب بات ہے کہ عموما جو کام ڈاکو کرے تو اسے سزا ملتی ہے اور وہ نادم ہوتا ہے اپنے ڈاکہ ڈالے جانے کے پکڑے جانے پر مگر یہاں ایک قوم نے پوری دنیا کے نودارت چوری کئے اور ان کو شو کیسوں میں سجا کر ان پر ٹکٹ لگا رکھا ہے
میوزیم کافی بڑا ہے جس میں افریقہ عرب اور برصغیر کی کتب اور دیگر نوادرات کے نمونہ محفوظ کئے گئے ہیں

لندن کے قیام کے دوران یہ واقعات بھی اکثر سننے کو ملے کہ ہماری بھولی پاکستانی اور انڈین بنگالی قومیں اکثر افریقی کالوں کے ہاتھ بے وقوف بنتی رہتی ہیں
افریقی پیتل اور لوہے کے بنگل یا جھمکوں پر سونے کا پانی چڑھا کر لوگوں کو سستا ریٹ چوری کے بھاو بتاتے ہیں اور لوگ لالچ میں آکر خدید لیتے ہیں اور بعد میں پھر پچھتاتے پھرتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *