جب گورے میرپوری زبان بولنے لگ پڑے

جب گورے میرپوری زبان بولنے لگ پڑے

(دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط نمبر گیارہ)
—————————————-
والسال میں پہنچتے ہی مقامی کالج میں انگلش بطور دوسری زبان کے کورس
‏English as second foreign language)میں داخلہ لے لیا ہماری ٹیچر Neena Jolker انڈین سکھنی تھی جو برطانیہ ہی کی پیدائش تھی
اس کے حلیہ و لباس سے پتا نہی لگتا تھا کہ انڈین سکھ ہے کورس کے دوران گفتگو انگریزی میں کرتی تھیں اس کا یہ فائدہ ہوا کہ مجبورا انگریزی سوال جواب کرکرکے ہماری انگریزی بولنے کی جھجھک ختم ہو گئی
اور کورس کے اختتام پر کیمرج یونیورسٹی کا سرٹفکیٹ دیا گیا ہم جو پاکستان میں آیف اے میں انگلش میں دو دفعہ فیل ہوئے آج انگلش زبان میں کیمبرج سرٹفکیٹ ہولڈر بن گئے
پاکستان میں انگریزی کو بطور زبان کم اور بطور مضمون پڑھایا بلکہ رٹایا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ستر سال کے بعد بھی عوام کو انگریزی بولنی نہی آتی جبکہ یہاں اس کو بطور زبان پڑھایا جاتا ہے بولبے اور سننے کی پریکٹس کروائی جاتی ہے نصاب میں رٹا کی بجائے عملی مشق کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے

والسال میں میرا قیام تقریبا دس ماہ رہا پہلے چار ہفتہ ایشائی جنرل اسٹور پر کام کیا اسکےبعد ایک ایمبراڈری کے چھوٹے سے کارخانے میں مشین آپریڑ کے کام مل گیا اس یونٹ کے مالک فیصل آباد کے پاکستانی تھے
بارہ گھنٹہ کی لگاتار شفٹ ہوتی تھی کمپیوٹرائزڈ مشینیں تھیں لیکن ان پر کپڑے لگانا اتارنا دھاگے تبدیل کرنا بھی مشینی انداز میں رفتار کے ساتھ کرنا پڑتا تھا
ایک دن دوران کام یونٹ میں ایک گورا شخص بریف کیس اٹھائے آیا اور آتے ہی میرپوری زبان میں بولا( پاپیو کہہ حال ہن توساں نے ) یعنی آپ کا کیا حال ہے
ہم ایک دم شاک ہوئے بندہ شکل سے گورا اور زبان پیور میرپوری ،وہ گھڑیاں بیچ رہا تھا پھیری لگانے والوں کی طرح ،
اس علاقہ میں جسے میڈ لینڈ Midland کہا جاتا ہے میں ڈڈیال میرپور سے آئے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد آباد ہے گورے کام کرنے والوں نے بھی مجبورا ایسے الفاظ یاد کر رکھے ہیں تاکہ پاکستانی گاہک اپنی مادری بولی سن کر
خوش ہو جائیں

img_0844

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *