برطانیہ میں قادیانی مبلغین سے ہمارا ٹاکرا

برطانیہ میں قادیانی مبلغین سے ہمارا ٹاکرا

(دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط نمبر بارہ)

والسال walsall میں قیام کے دوران 1997,98ایک دن جنگ اخبار میں جو لندن سے شائع ہوتا ہے ایک اشہتار کسی اسلامی ادارے کی جانب سے شائع ہوا کے اسلامی تعلیمات کو جاننے کے لئے مفت کتب حاصل کیجئے
پڑھنے کا شوق تو ہمیں بچپن سے تھا ہم نے اخبار کے کوپن کو بھر کر ارسال کر دیا
کچھ دن بعد کام سے واپس آیا ابھی فلیٹ سے باہر ہی تھا کہ روم میٹ فلیٹ سے باہر نکلا اور مجھے بتایا کہ تہمارے کوئی دوست آئے ہیں ملنے میں حیران ہوا کہ میرے اس ایڈریس کا تو کسی کو معلوم ہی نہی یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں خیر اندر داخل ہوا تو دو نوجوان چھوٹی چھوٹی داڑھی والے ہاتھوں میں کچھ چھوٹے پفلٹ لئے نظر آئے
ہم نے تعارف کروانے کا کہا تو کہنے لگے ہم برمنگھم سےاس شہر میں آرہے تھے اپنے کام سوچا آپ سے بالمشافہ ملاقات ہو جائے آپ نے وہ اخبار کا کوپن ارسال کیا تھا اسلامی کتب کے بارے میں
ان میں سے ایک برٹش بورن لڑکا تھا دوسرا پاکستان سے آیا ہوا نوجوان تھا
برٹش نوجوان نے امت مسملہ کے زبوں حالی کا ذکر شروع کیا اور فرقہ واریت پر روشنی ڈالی اسے آگے بات پاکستانی نوجوان نے بڑھاتے ہوئے بتانا شروع کیا کہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے اکثر پوری ہو چکی ہیں بس آخیری زمانہ آ چکا احادیث و روایات میں فلاں فلاں نشانی کا ذکر ہے جس میں سے ایک تہتر فرقوں کی روایت ہے ساتھ ہی اس نے پفلٹ مجھے تھما دیا کہ یہ یہودیوں کے تہترے فرقوں کی فہرست ہے اور یہ مسلمانوں کے تہتر فرقوں کی فہرست ہے
میں نے نکتہ اٹھایا کہ مجھے تو تہتر فرقوں کا علم نہی چار چھ فرقوں کا سن رکھا ہے جن میں سنی شعیہ اہلحدیث وغیرہ ہیں
برٹش بورن نوجوان نے فہرست کے تہتر فرقوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ان میں وہ گروہ فرقے بھی شامل ہیں جو اسلام کے آغاز سے آج تک بنے جن میں کچھ آج قائم ہیں اور کچھ معدوم
اس کے بعد دوسرا نکتہ بیان کرتے ایک روایت /حدیث بیان کی کہ جب ایسے حالات ہوں گے تو فارس سے ایک فرد اٹھے گا جو دین کو دوبارہ سربلند کرے گا یعنی حضرت مہدی
میری دلچسپی بڑھنے لگی کہ یہ کونسی ہستی کا ذکر کرنے لگے ہیں میں نے تجسس سے پوچھا تو انہوں نے کہا وہ ہستی اٹھارہ سو پچاس (درست تاریخ میرے ذہن میں نہی رہی) میں برصغیر میں قادیان نامی قصبہ میں پیدا ہوئی جہنوں نے دین پر صدیوں سے پڑی گرد صاف کرکے اسے دوبارہ عروج کی طرف لانے کا بیڑا اٹھایا
میں نے نکتہ اٹھایا جناب آپ نے جس حدیث کا حوالہ دیا میں اس کے ضیف یا اس کے راویوں کے متعلق علم نہی رکھتا پھر بھی اس روایت سے فارس کا معانی انڈیا کہاں سے لے لیا ؟
پاکستانی نوجوان نے کہا کہ فارس ایک استعارہ ہے مرزا غلام کے بزرگ دراصل فارس سے ہجرت کرکے انڈیا آئے تھے ساتھ بڑش نوجوان نے دوسری دلیل شروع کی کہ حضرت مسیح موعود کے بارے میں اور بھی روایت ہیں میں نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ یہ حضرت مہدی سے بات مسیح موعود تک کیسے پہنچ گئی
پاکستانی نوجوان بات گھوما کر کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ برٹش بورن برطانیہ کی پرورش کے مطابق سیدھی ڈائرکٹ گفتگو کررہا تھا پاکستانی نوجوان بار بار اسے بولنے سے روک کر بات خود کرنے کی کوشش کرنے لگ پڑا
میرے اس سوال پر کہ یہ مسیح موعود سے ان کی مراد کیا ہے تو وہ بولا حضرت عیسی علیہ اسلام صلیب پرفوت نہی ہوئے تھے بلکے بے ہوش ہوئے تھے اور بعد میں ہوش میں آنے پر پیدل چلتے چلتے انڈیا پہنچ کر کشمیر میں سرینگر کے فلاں محلہ میں رہائش پذیر ہوئے اور وہیں وفات پائی احادیث کے مطابق قیامت کے نزدیک عیسی علیہ اسلام کی خصوصیات کا حامل فرد دجال کے خلاف جنگ کرکے مسلمانوں کو فتح دلائے گا
درحقیقت مہدی اور مثل عیسی ایک ہی فرد کا ذکر ہوا ہے
میں حیران ہوا کہ یہ کہانی تو زندگی میں پہلی بار سن رہا ہوں میں نے تو آج تک یہی سنا اور پڑھا کہ عیسی علیہ اسلام کی جگہ اللہ نے کسی اور کو ان جیسا بنا دیا اور انکو آسمانوں پر اٹھا لیا اور قیامت کے نزدیک وہ تشریف لائیں گے
نوجوان بتانے لگا دیکھے یہ مولوی آپ کو درست ترجمہ نہی بتاتے قران کی فلاں آیت میں ذکر ہے اس نے عربی پڑھی اور بتایا کہ ایسا لفظ دوسری سورت میں آیا وہاں مولوی اسکا ترجمہ وفات کرتے ہیں اور اس آیت کا ترجمہ اٹھایا لیا گیا کرتے ہیں
میں نے ان سے کہا میں خود ترجمہ کی صلاحیت نہی رکھتا اسلئے اس پر فلحال میں کمنٹ نہی کر سکتا بحرحال اس سے آپ بات کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں ؟
قرب قیامت کی احادیث کا میں انکار تو نہی کر رہا لیکن ان میں کئی نشانیوں کا ذکر ہے جس میں دجال کا ذکر بھی ہے
وہ کہنے لگے جی جی بلکل دجال کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ اسکا ایک پاوں مشرق میں ہوگا اور ایک مغرب میں یہ نشانی پوری ہوچکی ہے یہ جو ہوائی جہاز ہیں جو ایک مینٹ میں ادھر سے ادھر پہنچ جاتے ہیں
اور دجال سے مراد کوئی انسان نہی بلکہ یہ ایک نظام بھی ہو سکتا ہے جو ہر چیز پر قابض ہو جائے گا جیسا آج مغرب کا بینک کا نظام ہے یہ مغرب یہ یورپ کا نظام درحقیقت دجالی نظام ہے
میں نے نکتہ اٹھایا ایک طرف آپ اسے دجال کے مترادف قرار دے رہے ہیں دوسری جانب آپ کو جب سے پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا گیا آپ نے برطانیہ کو اپنا مرکز بنا رکھا ہے
آگے سے کہنے لگے یہ تو سنت رسول ہے جیسے انکے زمانہ میں جب قریش مکہ نے زندگی تنگ کی تو حبشہ کے عیسائیوں کے بادشاہ نجاشی نے پناہ دی یہ اسی کے مترادف ہے
میں نے اگلا نکتہ اٹھایا کہ آپ کی ساری باتوں کو چلئے ایک لمحہ کو درست بھی مان لیا جائے تو روایات کے مطابق تو مہدی اور عیسی علیہ اسلام نے تو اسلام کو غالب کرنا تھا اور چالیس سال حکومت کرنی تھی ؟
مگر آپ کے مسیح موعود و ظلی نبی نے ایسا کونسا کارنامہ سرانجام دیا اسلام تو ہر جانب مغلوب ہے آج بھی
برٹش نوجوان کہنے لگا آپ مولویوں کے جھوٹھے پراپوگنڈے کی بجائے خود آکر ہمیں سنیں ہمارے ساتھ شامل ہوں انہوں نے سینکڑوں مناظرے کئے عیسائیوں کے ساتھ سینکڑوں کتب لکھی اسلام کو دوبارا زندہ کردیا اور چالیس سال سے مراد خلافت تھی جو ان کے بعد ان کے بیٹے اور پوتے تک کا زمانہ بنتا ہے
میں نے ان سے کہا کہ ان موصوف کی کوئی سوانح عمری مل سکتی ہے جس سے ہمیں معلوم ہوسکے کہ ان کی پرورش کہاں کیسے ہوئی اور ان کے اندر کونسی خوبیاں اور خصوصیات پائی جاتی تھیں جن کی بنیاد پر ان کو مہدی و مسیح موعود و ظلی بنی مانتے ہیں آپ
پرٹش نوجوان نے دوران گفتگو ظلی نبی و مسیح کے الفاظ استعمال کئے تھے جبکہ پاکستان سے آیا نوجوان انتہائی محتاط تھا کیونکہ پاکستان میں یہ کھل کر سارے دعوے ایک ساتھ نہی کرتے بلکہ بات مہدی سے ہی شروع کرتے ہیں
میرے اس سوال پر بات گول مول کر ٹالنے لگے
میں نے دوبارہ ریکوسٹ کی کہ جس ہستی کے بارے میں آپ اتنی بڑی باتیں کررہے ہیں مجھے ان کی زندگی کے بارے میں پڑھنے کا تجسس ہو رہا ہے
وہ بات کی طے تک پہنچ گئے کہ یہاں دال نہی گلنی اگلی بار وہ ایسی کتاب لانے کا وعدہ کر کے ایسے رفو چکر ہوئے کہ پھر دوبارہ کھبی نہی آئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *