انگلینڈ کی حوروں کا کاروبار

انگلینڈ کی حوروں کا کاروبار

دینہ سےقرطبہ ہجرت کی داستان قسط تیرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
والسال میں دس ماہ قیام کے بعد اگلا پڑاو پریسٹن Preston شہر تھا جو ریلوے کا مشہور جنکشن ہے جہاں سے ٹرینیں اسکاٹ لینڈ کی جانب مڑتی ہیں
پریسٹن میں جاتے ہی سب سے پہلا کا لائبریری کارڈ بنوایا وہاں پر ریاض بھائی کے ایک دوست کا فاسٹ فوڈ کا ٹیک وے تھا ان کے پاس رہائش اختیار کی کچھ دن کے بعد ہی وہاں ایک ٹکسٹائل فیکڑی میں جاب مل گئی
جہاں روزانہ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی ہوتی تھی یہ فیکڑی ایک انڈین گجرتی مسلمان کی ملکیت تھی اسمیں جرابیں آٹو میٹک مشینز پر بنتی تھیں کام کا آغاز مشین آپڑیڑ کی ٹرینگ سے ہوا۔ کہتے ہیں کہ تعلیم اور ہنر زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر کام آتے ہیں پاکستان میں جو مکینکل ڈرافٹسمن اور آٹو کیڈ کا کورس کیا تھا اسکا فائدہ اٹھانے کا موقع بھی مل گیا فیکڑی میں کمپیوٹر سیکشن میں ایک ڈئزائنر تھا جو جرابوں کےلئے کارٹون وغیرہ بنا کر مشینوں میں لوڈ کیا کرتا تھا
کچھ عرصہ بعد وہ کام چھوڑ کر چلا گیا اس کی جگہ ایک دوسرا انڈین لڑکا جو انجینر تھا اسنے وہ کام بھی سنھبال لیا میں نے اس سے بات کی کہ یہ کام تو مجھے بھی آتا ہے اگر تھوڑی سی ٹرینگ دو تو تمہارا بوجھ ہلکا ہو جائے گا
اس نے مالک سے میری سفارش کی یوں مشین آپریٹر سے نکل کر آفس میں کمپیوٹر پر کام شروع کر دیا
میرے ساتھ کام کرنے والے دیگر انڈین اور پاکستانی لڑکے جن کو پانچ پانچ سال ہو گئے تھے وہ وہیں وہی کام کر رہے تھے مجھے تعلیم کی وجہ سے یہ موقع میسر آگیا کہ نسبتا آرام دہ کام مل گیا
یہ فیکڑی انڈسٹریل ایریا میں تھی شروع کا سال تو کام دن صبح کی شفٹ میں کرتا رہا لیکن بعد میں رات کی شفٹ میں کام کرنے کےلئے پہلے دن جب انڈسٹریل ذون میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں گورے رنگ کی حوروں کی قطار بن سنور کر کچھ ایسے ڈریس پہنے ہوئے جن سے ان کا جسم صاف چھپتا بھی نہ ہو کھڑی ہیں
ہم حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے فیکڑی کے گیٹ کے سامنے پہنچے تو حور نے آگے بڑھ ہم سے پوچھا
Do you want business ?
ہمارے تو پہلے ہی ہوش اڑے ہوئے تھے اور کھبی اس مخلوق سے پالا نہی پڑا تھاہمیں نہی معلوم تھا کہ ان سے لوگ کن اشاروں اور اصطلاحوں میں بات کرتے ہیں اسلئے گھبرا کر پوچھا
What kind of business ?
میراسوال سن کر اسنے اپنے کاروبار یعنی اپنی خدمات کی فہرست بمعا قیمت بیان کی اس کی بیان کردہ خدمات میں سے اکثر کے نام پہلی بار سنے تھے
ہم نے اس کام کےلئے ایک ہی لفظ سن اور پڑھ رکھا تھا
No thanks
کہہ کر جان چھوڑا کر فیکڑی میں داخل ہو گئے

img_0877

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *