اکیسویں صدی کا شور اور کرکٹ کا ورلڈ کپ

اکیسویں صدی کا شور اور کرکٹ کا ورلڈ کپ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان کی قسط پندرہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریسٹن میں دوران قیام ہی 1999میں پاکستانی ٹیم کرکٹ کے ورلڈ کپ میں فائینل تک پہنچ گئی اور فائینل آسڑیلیا اور پاکستان کے درمیان ہوا ۔کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا شوق تو تھا لیکن فائینل ایک تو london میں تھا دوسرا اس کی ٹکٹس کافی مہنگی اور ایڈوانس میں بک کروانی پڑتی تھی
ہمارے ساتھ کام کرنے والے ایک گجراتی مسلمان کو بھی کرکٹ کا شوق تھا اس نے ٹکٹ پانچ سو پونڈ میں خریدی اور فائینل دیکھنے گیا اور واپسی پر پاکستانی ٹیم کو خوب برا بھلا کہا کہ ایک دن کی کام کی تنخواہ پیٹرول اور ہانچ سو پونڈ خرچا اور پاکستانی ٹیم ایک سو تیس 130یا چالیس پر آوٹ ہوگئی ۔ہم نے وہی میچ ٹی وی پر مفت میں دیکھ لیا
پریسٹن آنے سے پہلے والسال میں جس فلیٹ میں رہ رہا تھا اسکے مالک دینہ کے تھے انہوں نے مجھ سے کہہ کے انکے بیٹے پڑھائی میں دلچسپی نہی لے رہے تم ان کو کچھ وقت پڑھا دیا کرو
میں پاکستان کا پڑھا ہوا اور انگلش بچوں کو پڑھانا تھوڑا جھجھکا لیکن چھٹی اور آٹھویں کے دونوں بچوں کو کچھ ہفتے پڑھایا وہاں کی کتب پاکستانی کتب کی نسبت آسان لگیں میرا میتھ شروع سے اچھا تھا ان کو میتھ ہی پڑھنا تھا
ان میں سے ایک بچہ آج کل اکاونٹینٹ ہے
اسی زمانے میں 2kکا بڑا شور تھا یعنی سن دو ہزار میں کمپوٹر سسٹم خطرے میں ہوں گے کیوں کے ان میں انیسو سو کا ہندسہ تو ہے لیکن 2000 کا نہی تو کہیں سارے کمپیوٹرائزاڈ نظام بند نہ ہوجائے اس مسئلہ پر اتنا پراپوگنڈا سنا ٹی وی ریڈیو پر اس کی آڑ میں سینکڑوں کمپناں وجودمیں آگئیں جو ہزاروں پونڈ فیس لے کر اس مسئلہ سے نبٹنے کی تیاری کی خدمات پیش کرنے لگیں
اسی دوران بڑے بھائی اسپین چلے گئے ایک پرانے دوست کے پاس کیونکہ اسپین میں لیگل کاغذات بننے کی باتیں چل رہی تھیں کچھ عرصہ بعد انہوں گرین سگنل دیا تو ہم برطانیہ کو ہمیشہ کےلئے خیر آباد کہہ کر اندلس فتح کرنے نکل پڑے
پاکستان سے نکلے چار سال ہونے کو تھے والدین سے اور وطن سے دوری کا احساس شدت اختیار کرنے لگا تھا اس وقت تک ویڈیو کال کی سہولیات میسر نہی تھی صرف فون کیا جاتا تھا اسلئے دوری اور جدائی کا احساس زیادہ ہوتا تھا

img_0890

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *