لندن پولیس اور ہم

لندن پولیس اور ہم

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط سولہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا قیام برطانیہ میں اگست 1996تا 2000 مئی جون تک رہا اس قیام کے دوران کچھ واقعات کا ذکر پہلے رہ گیا تھا آج انکا ذکر ہو جائے،
والسال کے قیام کے دوران کچھ دن قیام ضلع جہلم کے علاقہ پنڈدادن خان کے علامہ خالد محمود صاحب کے پاس رہا جو حقیقی معنی میں اللہ والے عالم دین ہیں ہمیشہ مطالعہ میں مصروف رہتے ہیں مجھ سے جہلم میں خطابت کے زمانے سے شناسائی تھی جب ہم اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام جہلم پروگرامات کیا کرتے تھے
ایک دن مجھے کہنے لگے فیاض بیٹا زرا کیچن میں جا کر چائے دیکھنا میں چولہے پر چڑھا آیا ہوں میں کیچن میں گیا تو دیکھا چولہے پر دیگچی میں صرف پانی گرم ہونے کےلئے دھرا ہوا ہے میں نے علامہ صاحب سے کہا حضرت یہ تو صرف پانی ابل رہا ہے کہنے لگے بیٹا دو چمچ چینی اور پتی ڈال دو چائے تیار اور اس میں رہتا کیا ہے
قیام لندن کے دونوں پاکستان کے مشہور اسلامی اسکالر جنگ فورم کے تحت ایک پروگرام کرنے تشریف لائے ہم اخبار میں اشتہار دیکھ جنگ کے دفتر کے پتہ پر جانے کےلئے نکلے لیکن راستہ سمجھ نہ آرہا تھا کہ سامنے پولیس اسٹیشن دیکھا وہاں جاکر پتہ معلوم کیا انہوں نے گائیڈ کر دیا ۔ اس وقت قانونی رہائیش کے کاغذات نہی تھے لیکن وہاں کی پولیس سے ڈر نہی لگا کیونکہ وہ عوام کو فضول میں تنگ نہی کرتے بلکہ مددگار ثابت ہوتی ہے
لندن کے قیام میں جب ہم حلال گوشت کی دوکان پر کام کرتے تھے جو اچھی خاصی مصروف ہوتی تھی کیونکہ خریداروں میں پاکستانی انڈین مسلمز کے ساتھ افریقی نسل کے لوگ بھی شامل ہوتے تھے ویک اینڈ یعنی ہفتہ اتوار کو کام دوگنا ہوتا تھا ہفتہ کی سیل پانچ سے چھ ہزار پونڈ تھی اس دوکان کے ساتھ ایک پاکستانی کی دوکان تھی جس میں افریقی لوگوں کا فیشن کا سامان تھا جس میں نقلی بال کی وگ اور نقلی ناخن وغیرہ تھے افریقی خواتین کے اپنے قدرتی بال گنگریلو اور چھوٹے ہوتے ہیں ان کی قیمیت دو تین پونڈ تھی لیکن ہفتہ کی سیل گوشت کی دوکان سے زیادہ تھی
دنیا کی مارکیٹ کی ستر فیصد اشیا خواتین کے میک اپ اور فیشن پر مبنی ہے ڈریس یا میک اپ یا جیولری یا بیگ ،مرد حضرات کا شوق زیادہ سے زیادہ ایک عینک اور سگریٹ اور ایک سوٹ تک محدود
برطانیہ سے مسافر2000عیسوی کے وسط میں اپنے اگلے پڑاو اسپین کی جانب محو سفر ہوا

img_0904

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *