جب مرغی کی ککڑوں کڑوں ہمارے کام آئی

جب مرغی کی ککڑوں کڑوں ہمارے کام آئی

‏ دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط اٹھارہ
—————————————

Belmez گاوں میں پہلے سےچار پانچ پاکستانی رہتے تھے امیگریشن کھلنے سے پہلے جو مارکیٹ لگاتے تھے پورے یورپ میں ہر شہر یا گاوں میں سستے سامان کےلئے عارضی بازار لگتے ہیں کچھ گھنٹوں کیلئے جیسے پاکستان میں اتوار بازار لگتے ہیں
سن دو ہزار کی امگریشن کیا کھلی یہاں یہاں آنے والوں کا تاندھا بندھ گیا کیونکہ اسپین کی زبان اسپینیش تھی اور جو بھی دوسرے ممالک سے اسپین میں آرہا تھااسے اس کی سمجھ نہ تھی وہ کوشش کرتا کہ اپنے کسی جاننے والے کے پاس جائے جو امیگریشن کے معاملات میں مددگار بھی ثابت ہو اور رہائش کا بندوبست بھی ہوجائے
گاوں میں چار پانچ ڈیرے آباد ہوگئے اور ہر ڈیرے پر آٹھ سے دس افراد تھے شام کو کرکٹ کے میچ لگنا شروع ہوگئے اسپنیش زبان نہ جاننے کی وجہ سے مقامی آبادی سے بہت کم انٹرکشن تھا
مقامی آبادی نے پھر بھی بھرپور تعاون کیا کھبی نسل پرستی کا مظاہرہ نہ کیا
جس مکان میں ہم ٹھہرے تھے اسکے مالک مکان ایک دفعہ آئے تو مکان سے باہر بھائی جان سے پوچھنے لگے کتنے لوگ رہ رہے ہو انہوں نے بتایا چھ سات
وہ ہنسنے لگا اور بولا کھڑکی سے سوئے ہوئے لوگوں کے سترہ سر تو میں خود گنے ہیں
بھائی نے کہا کچھ مہمان ہیں ملنے آئے ہیں

ابھی گاوں میں آئے ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے اسپینیش کا کوئی لفظ نہی آتا تھا گھر کا سامان لینے دو تین لڑکے گھر کے سامنے ایک چھوٹی دوکان جو ایک بوڑھی اسپینیش عورت نے بنارکھی تھی پر گئے

جو سامان تو سامنے سامنے پڑا نظر آ گیا وہ ہم نے اٹھایا لیا اب انڈوں کی ٹرے کہیں دیکھائی نہ دی نظریں چاروں طرف گھمائیں مائی صاحبہ اسپینیش میں پوچھنے لگیں کیا چائیے que queries
اب ہم شش و پنج میں پڑ گئے کھبی Eggبولیں کھبی انڈے
اچانک دوسرے دوست کو ترکیب سوجھی اس نے منہ سے ککروں کڑوں کی آواز نکالی اور ساتھ ہاتھ کی انگلیوں سے گول گول کا نشان بنایا
مائی ہنسنے لگ پڑی اور بولی Huevo ہم نے گردن ہاں میں ہلائی یوں خریداری کا عمل مکمل ہوا ،
دوسری دفعہ گھر کے باتھ روم کا سامان لینے جنرل اسٹور پر جانے لگا تو دوست عامر کو ساتھ لیا جو ہماری طرح نیا ہی تھا لیکن ان کے بڑے بھائی عاصم چار پانچ سال سے گاوں میں رہ رہے تھے میں نے عامر سے کہا کہ بھائی سے چیزوں کی اسپینش پوچھ آو تاکہ وہاں جاکر مشکل پیش نہ آئے وہ بولا مجھے پتہ ہے آپ فکر نہ کریں
دوکان پر پہنچ کر اسے تولیہ کہا دوکاندار سمجھ گیا ہمیں Toallia توآیا چاہیے
اسکے بعد اسے صابن پوچھا وہ سمجھ گیا ہمیں Jabon خابون کی ضرورت ہے آواز ملتی جلتی تھی اسلئے گزارہ ہو گیا اب ہمیں گھر میں پہنننے کےلیے چپل چائیے تھی عامر نے اسے کہا چپلوکا چائیے اسے سمجھ نہ لگی اشاروں سے سمجھایا پاوں کی جانب اشارہ کیا تو بوٹ لے آیا بڑی دیر کے بعد مطلوبہ چیز میسر آئی میں نے عامر سے کہا تم نے یہ چپل کو چپلو کا نام کہاں سے دے دیا ؟ کہنے لگا اسپینش کے اکثر نام ایسے ہی ہوتے ہیں میں نے تکا مارا جیسے تولیہ اور صابن کا لگ گیا مگر یہ نہی لگ سکا

img_0925

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *