طارق بن زیاد کے نقش قدم پر اسپین میں

طارق بن زیاد کے نقش قدم پر اسپین میں

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط سترہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈرڈ ائیر پورٹ سے ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تو میڈرڈ کا یہ اسٹیشن لندن کے اسٹیشن سے کافی بڑا اور جدید لگا برطانیہ کی اکثر عمارت پرانے وکٹورین انداز تعمیر کی طرز پر ہیں اور انگریز اپنی اسے طرز تعمیر کو بدلنے کےلئے تیار نہی
میڈرڈ سے بزریعہ ٹرین سفر قرطبہ کی جانب شروع ہوا چار سو کلو میڑ کا سفر صرف ڈیڑھ گھنٹہ میں طے ہوا
مجھے پاکستان ریلوے میں زندگی کا پہلا اور آخری سفر یاد آگیا جو لاھور سے کراچی تک کیا تھا سنگاپور جانے کےلئے پہلے نمبر پر تو ٹکٹ بلیک میں ملے پر کراچی پہنچ کر کپڑوں کا رنگ دھول سے بدل چکا تھا
انگلینڈ کا ریلوے نظام بھی اسپین کی Ave ٹرین کے مقابلہ میں پاک ریلوے لگا
قرطبہ اسٹیشن سے بزریعہ کار ریاض بھائی کے پرانے دوست مسلم عبداللہ بھائی کے پاس پہنچے جو قرطبہ سے تقریبا اسی کلومیڑ کے فاصلہ پر گاوں Belmez میں رہائش پذیر تھے
راستہ میں ریاض بھائی کہنے لگے گھر پہنچیں تو پان کھلائیں گے آپ کو
میں نے حیرانگی سے پوچھا یہاں گاوں میں بھی پان مل جاتے ہیں انہوں نے کہا بلکل کیونکہ سارے اسپینش کھاتے ہیں میری حیرانگی مزید بڑھی گئی پان تو ویسے انگلینڈ میں بھی مل جاتے تھے کیونکہ وہاں بنگالی اور انڈیا کے حیدرآباد لکھنو کے رہنے والوں کی آبادی موجود ہے لیکن انگریز تو وہاں پان نہی کھاتے اور یہاں اسپینش سارے کھاتے ہیں
جیسے مسلم بھائی کے گھر پہنچے تو کھانا دستر خوان سجایا گیا سالن سلاد رکھا گیا مگر روٹی کی ابھی کمی تھی مسلم بھائی نے کسی کو کہا جاو فورا تازہ پان لے آو چار پانچ ،میں ایک بار پھر پریشان ہوا کہ کھانے کے میز پر روٹی منگوانے کی بجائے یہ پان منگوا رہے ہیں کچھ دیر بعد پانچ عدد دو دو فٹ لمبے ڈنڈے سامنے رکھے گئے جو آٹے سے بنے ہوئے تھے
یہ راز منکشف ہوا کہ اس ڈنڈے کو اسپینش میں پان کہا جاتا ہے جو روٹی کی جگہ اسپینیش استعمال کرتے ہیں اور ہمارے لوگ بھی اکثر اسی پر گزارہ کرتے ہیں
ہم دل ہی دل میں ہنس رہے تھے کہ کب سے ہم نے پان کے بارے میں کیا تصور بنا رکھا تھا اور یہ نکلا کیا
بلمز Belmez گاوں کی آبادی تین سے چار ہزار نفوس پر مشتمل تھی لیکن گاوں کی باقاعدہ اپنی بلدیہ ہے اور شام کو کوڑا اٹھانے کا نظام قائم تھا لوگ گندگی لفافوں میں ڈال کر گھر کے باہر رکھتے رات کو گاڑی اٹھا کر لے جاتی گاوں ہے تو چھوٹا سا تھا مگر ضروریات زندگی کی ساری اشیا موجود تھیں سپر مارکیٹیں اور انڈسٹریل زون بھی بنا ہوا تھا
بلمز Belmez گاوں کافی پرانا گاوں ہے اس کے ایک سرا پر ایک اونچی پہاڑی بنی ہوئی ہے جس پر مسلم دور کا قلعہ پر قلعہ اپنی اصل شکل میں موجود ہے جسے اس دور میں حفاظتی چوکی کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اس کے نام پر بھی ماہرین کی رائے ہے کہ یہ بسمل تھا عربی میں جو اب بلمز ہو گیا ہے
مکانوں کی اکثریت سنگل سٹوری تھی ہم جس مکان میں ٹھہرے وہ کافی پرانا اور خدستہ حالت میں تھا چونکہ ان دنوں اسپین میں امیگریشن کھلی ہوئی تھی لوگ فرانس اور انگلینڈ جرمنی سے اسپین آ رہے تھے
اس تین کمرہ کے مکان میں زمینی بستر لگائے گیے تھے
اور پندرہ افراد رہ رہے تھے

img_0918

One thought on “

طارق بن زیاد کے نقش قدم پر اسپین میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *