اسپین کی امیگریشن کا کمال پاکستانی مرد کو ٹھہرا حمل

اسپین کی امیگریشن کا کمال پاکستانی مرد کو ٹھہرا حمل

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط انیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس علاقہ میں کسی زمانہ میں کائلے کی کانیں ہوا کرتی تھیں جو اب بند پڑیں تھیں اور ان کانوں میں کام کرنے کےلئے پاکستانی آئے تھا یہ ستر سے اسی کی دہائی کی بات ہے کانیں تو بند ہوگئیں لیکن جہنوں نے اس میں ایک سال بھی کام کیا تھا ان کی اچھی خاصی پینشن لگ گئی ،بلمز سے منسلک گاوں pueblonuevo میں ایسی تین فیملیز رہتی تھیں
جن میں ایک راجہ ریاض نامی فرد تھے جو پینشن تو لاکھوں میں لیتے تھے لیکن کجنوس حد سے زیادہ تھے اپنے کام سے بھی کسی کی گاڑی میں جانا ہوتا تو مجال ہے پیڑول کا پوچھ لیں
یہ جب دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوں تو اکثر ان کا بیٹا آتا اور ان سے جیب خرچ مانگتا تو ان کو مجبورا دینا پڑتا گھر میں ٹرخا دیا کرتے تھے بچہ بھی سیانا تھا وہ بندوں کے سامنے مانگتا تھا اسطرح ٹرخا نہی سکیں گے
گاوں کے ارد گرد پہاڑیوں پر کئی قدرتی پانی کے چشمے تھے جن سے ہم پینے کا پانی بھر کر لاتے مقامی حکومتی اداروں نے ایسے چشموں پر ٹونٹیاں لگا رکھی ہیں ساتھ بورڈ بھی لکھ کر لگائے ہوئے تھے کہ کون سا پانی پینے کے قابل ہے Agua potable اور کونسا نہی
Agua no potable
گاوں میں کام کی صورت حال نظر نہی آ رہی تھی وہاں رہنے والے پرانے پاکستانی یا تو منڈیوں میں اپنی پھٹہ لگاتے یا گرمیوں میں لگنے والے میلوں میں پھٹے لگاتے یہ میلے رات کو لگتے اور ہر گاوں میں تین سے چار دن لگتے ان کو اسپینش میں Feria کہا جاتا ہے اس میں پاکستانی میلوں کی طرح کھانے پینے اور کھلونوں کی دوکانیں اور بڑے جھولے لگتے ہیں
سن دو ہزار2000 کی امیگریشن میں کئی واقعات ایسے ہیں جو ساری زندگی نہی بھولیں گے ان میں ایک واقعہ تو پاکستان ایمبیسی سے جڑا ہے پاکستان ایمبیسی کے عملہ نے اس امیگریشن میں عوام کی بھرپور مدد کی ساتھ اپنی جیبیں بھی خوب بھریں اسی دور کے سیکڑی شفقت چیمہ صاحب پر آج کل پاکستان میں مقدمہ چل رہا ہے فارن افئیر میں گھپلہ پر
انڈین ایمبیسی کے اصول و ضوابط اتنے کڑے تھے کہ کئی سکھوں نے پاکستان ایمبیسی سے اپنے پاکستانی پاسپورٹ بنوا کر کاغذات جمع کروائے ہماری ایمبیسی کے عملہ نے عوام کی کھل کر مدد کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے
دوسرا قصہ کاغذات کے ساتھ جمع کروائے جانے والے ثبوتوں کے متعلق ہے اسپنیش حکومت نے اسپین میں اپنی موجودگی کا کوئی بھی ثبوت مانگا تھا ہر کسی نے مختلف کاغزات لگائے جن میں ڈاکڑ سے چیک اپ کی رسید بھی شامل تھی
ایک پاکستانی بھائی نے اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کے کاغذات کے ساتھ نام بدل کر بطور ثبوت میڈیکل رسید لگائی
جب امیگریشن والوں نے جانچ پڑتال کی تو بڑے حیران و پریشان ہوئے اور اس بندے کو خط لکھ کر بلوایا اور پوچھا یہ ثبوت تہمارا ہے اور اصلی ہے وہ شخص ڈھیڈ بن کر اپنی بات پر قائم رہا جی بلکل سو فیصد اصلی ثبوت ہے
امیگریشن والے بولے یہ تو کسی خاتون کے حمل کی رپورٹ ہے اور دنیا میں تم پہلے مرد ہو جس کو حمل ہوا ہے سیانے درست کہتے ہیں نقل کےلئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے

ہم نے امیگریشن کے لئے کاغذات جمع کروا کر Belmez میں انتظار شروع کر دیا جو تقریبا چار سے پانچ ماہ تک جاری رہا جو کچھ انگلینڈ میں کمایا تھا اب خرچ ہو رہا تھا یہ انتظار اتنا طویل لگ رہا تھا جیسے سالوں پر محیط ہو فارغ بندے کا وقت بڑی مشکل سے گزرتا ہے
جون یا جولائی میں کاغذات پاس ہونے کی خوشخبری ملی سب سے پہلے جو خیال آیا وہ پاکستان جا کر والدین سے ملنے کا تھا گھر سے نکلے ہوئے چار سال کا عرصہ ہو چکا تھا اور اب مزید انتظار کی ہمت نہ رہی تھی

img_0939

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *