پردیس سے پرندے کی اپنے دیس واپسی

پردیس سے پرندے کی اپنے دیس واپسی

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط بیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم کو جیسے ہی قانونی کاغذات ملے فورا پاکستان کا ٹکٹ کٹوایا سفر براستہ انگلینڈ ہوا تقریبا سوا چار سال بعد اپنی سرزمین اور والدین کو دیکھنے کی خواہیش اور اشتیاق تھا اسپین سے ہوائی جہاز میں بیٹھنے کے ساتھ ہی ذہن میں خیال آنا شروع کہ جب والدہ کے سامنے پہنچوں گا تو خوشی سے ان کا چہرہ کیسے کھلا ہوا ہوگا کھبی چھوٹی بہن کی خوشی کا خیال آرہا تھا ان ہی تخیلات میں گم تھے کہ دینہ شہر جا پہنچا تو مین چوک کافی بدلہ ہوا لگا

ہائے وے اتھاڑئی نے شہر کے داخلی راستہ سے ہی سڑک کے دونوں کناروں پر سروس روڈ بنا دئیے تھے اور جنگلے لگا دئیے خوشگوار حیرت ہوئی یہ ترقی دیکھ کر
اس چھٹی کے دوران کچھ پرانے دوستوں سے ملاقات ہوئیں کچھ ہماری طرح تلاش رزق میں انگلینڈ اور عرب ممالک کو جا چکے تھے
ایسی ہی ایک ملاقات کے لئے ایک بزرگ محترم حاجی حنیف صاحب کے گھر گیا جو کافی عمر ریسدہ تھے اور صاحب فراش تھے

مرحوم جوانی میں پاک نیوی میں ملازم تھے نوکری کے اختتام پر اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ کےلئے وقف کر دی اور جماعت اسلامی سے منسلحق ہو گئے اپنے گھر کے ساتھ اپنی دوکانوں میں جماعت اسلامی کا دفتر قائم کر دیا اور محلہ کے بچوں کو قران پڑھاتے تھے
میڑک کے بعد میں جب اسلامی جمعیت طلبہ سے منسلحق ہوا تو اس دفتر میں قائم لائبریری کے استعمال اور پروگرامات کےلئے دفتر جاتا تھا تو یہ ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے تھے

ساڑھے چار سال بعد ملاقات ہوئی تو پوچھنے لگے کہاں کہاں رہے انگلینڈ کے شہر پریسٹن Preston کا ذکر کیا تو بتانے لگے نیوی کی سروس کے دوران 1964,65میں اس شہر جا چکے ہیں اور اسی شہر کے متعلق واقعہ سنانے لگے کہ اس زمانے میں کافی برف باری پڑتی ہوئی تھی وہ عملہ کے ساتھ ایک آٹوسروس والے ریسٹورینٹ میں داخل ہوئے جہاں اپنی مرضی سے خود کھانے اٹھا کر اخر میں کاونٹر پر پیسے ادا کرنے ہوتے تھے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک انگریز جس نے سردی سے بچنے کے لئے لمبا آور کوٹ پہن رکھا ہوا تھا کچھ سامان آنکھ بچا کر کوٹ کے نیچے چھپا رہا ہے

میرے ذہن میں انگریز قوم کی چوری کی عادت کے متعلق یقین پختہ ہو گیا میرے ساتھ کام کرنے والوں نے مشورہ کیا کہ پاکستان واپس جانے کی بجائے یہیں رہ کر مزدوری کرتے ہیں بعد میں فیملی کو بلا لیں گے اس زمانے میں فیملی بلانے کےلئے اتنی سختی نہی تھیں
حاجی حنیف صاحب کہنے لگے میں نے فورا انکار کردیا کہ میں ایسی جگہ اپنے بچوں کو لا کر ان کی اچھی تربیت کیسے کر سکوں گا جہاں کے لوگ چور ہیں
حاجی صاحب کے صاحبزادے ماسٹر صادق السلام ساتھ کھڑے یہ داستان سن رہے تھے مجھے کہنے لگے یار اس انگریز کو تلاش کرکے اس کی چھترول کرنے کا دل کر رہا ہے نہ وہ چوری کرتا نہ ہمارے انگلینڈ جانے کا راستہ بند ہوتا ۔

img_0950

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *