اسپین میں پہلی دوکان اور پہلا بوسہ

اسپین میں پہلی دوکان اور پہلا بوسہ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط بائیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شالیماریسٹورنٹ Estepona میں کام شروع کرنے کے کچھ دن بعد ہی مقامی کمیونٹی سنٹر کو تلاش کیا اور اسپینیش زبان کو باقاعدہ سیکھنے کےلئے کورس کے بارے میں معلوم کیا سینٹر میں ایک کلاس چل رہی تھی جو تعلیم بالغاں یعنی ان بوڑھی اسپینش خواتین کےلئے تھی جو جوانی میں لکھنا پڑھنا نہی جان سکی تھیں ان کو بلکل ابتدائی AB سے لکھنا پڑھنا سیکھایا جا رہا تھا
ٹیچر نے کہا کہ اور کوئی کلاس یہاں نہی ہوتی مگر تم آ جایا کرو میں ذاتی حثیت سے پڑھا دیا کروں گا حکومت کی جانب سے مجھے اس کا کچھ معاوضہ نہی ملے گا
یوں روزانہ آدھا گھنٹہ سے ایک گھنٹہ پڑھنا شروع کیا
اسپینش کے ورب یعنی گردانیں اور گرائمر کے کچھ اصول وہیں سے سیکھے جو آج تک کام آرہے ہیں
اس ریسٹورنٹ میں تین سے چار ماہ ہی کام کیا تھا کہ بڑے بھائی اور انکے دوست نوید ہاشمی جو انگلینڈ میں فاسٹ فوڈ کی دوکان چلارہے تھے کا قرطبہ میں فاسٹ فوڈ کی دوکان کھولنے کا پروگرام بن گیا
انگلینڈ میں پریسٹن میں قیام کے دوران نوید ہاشمی صاحب کے ٹیک اوے پر فارغ اوقات میں جا جا کر کام میں سیکھا ہوا تھا اسلئے مجھے حکم ہوا کہ تم آ کر اس دوکان کو سنھبالو
قرطبہ شہر کا یہ پہلا ڈونر کباب تھا اسکانام نوید صاحب کے پریسٹن والے ٹیک اوے کی طرح Red Onion رکھا انگلینڈ میں تو ایسے فاسٹ فوڈ اور ایسے نام سمجھ آتے تھے انگریزوں کو مگر اسپینش قوم کے بڑی عمر کے لوگ انگریزی سےنابلد ہیں ان کو اس نام سے اس دوکان کے فاسٹ فوڈ کے ہونے کا پتہ ہی نہ چلتا
مینو بناتے وقت انگلینڈ میں رائج فوڈ کے نام استعمال کرنے سے بھی مسئلہ بنا کہ اسپینیش قوم کو انڈین پاکستانی کھانوں کے نام سمجھانا مصیبت بن گیا
شیش کباب ہو یا چکن تکہ بوٹی ان کو ان ناموں کو پڑھ کر پتہ نہ چلتا یہ کس گوشت سے بنی ہیں اور ان کی مقدار کتنی ہے
چار چھ ماہ یہ تجربات ہوتے رہے کہ کون کون سی ڈش مینو میں رہنی چائیے کونسی نہی سموسہ سے لے کر سیک کباب کھیر خود بناتے رہے لیکن آخر میں صرف دو تین پراڈکٹ ہی لوگوں کو پسند آئیں جن میں چکن اور بیف کا ڈونر کباب تھا
اس دوکان پر اسپینیش زبان کو پریکٹیس کرنے کا بھی خوب موقع ملا اسی محلہ میں ایک NGO تھیCordoba acoge جو غیر ملکیوں کے لئے قانونی مدد فراہم کرتی تھی اور ساتھ اسپینش کورس بھی کرواتی تھی ہفتہ میں دو دن ہم نے بھی کچھ عرصہ تک وہ کلاس لی اس کلاس کے ٹیچر میونئل جو ساٹھ سال کی عمر کے تھے کافی حد تک عربی بھی جانتے اکثر اسپین الفاظ جو ہمیں سمجھانے ہوتے بورڈ پر عربی لکھ کر بھی سمجھاتے ۔
میں نے ایک بار ان سے پوچھا کہ آپ کو عربی کیسے آتی ہے تو کہنے لگے میں نے اپنے آباو اجداد کا شجرہ پر تحقیق کی ہے وہ مسلمان تھے اسی لئی عربی زبان سے شغف ہے
ہماری دوکان کے کلائینٹس میں امریکہ سے آئے ہوئے یونیورسٹی طلبہ بھی تھے جو یہاں طلبا ایکسچیج پروگرام کے تحت آتے تھے ہم چونکہ انگلش بات چیت کرلیتے تھے وہ بھی بخوشی ہماری دوکان پر آتے کہ باقی سپینشوں کو انگلش نہی آتی یوں ہماری انگریزی کی پریکٹس جاری رہتی
ایک دن میں مجھ سے بڑے بھائی اعجاز جو میرے ساتھ دوکان پر کام کرتے تھے ہم بازار کی جانب گئے تو سامنے سے ہماری ایک کلائینٹ نوجوان امریکی کالی خاتون آرہی تھی اسپین کا کلچر ہے کہ جیسے عرب مرد گالوں پر بوسہ دیتے ہیں ملتے وقت یہاں خواتین مردوں کو نمائشی بوسہ دیتی ہے گال کے ساتھ گال لگا کر
ہم کو اسپین میں رہتے کافی عرصہ ہو چکا تھا لیکن ہماری کسی اسپینش خاتون سے اتنی واقفیت نہی ہوئی تھی کہ ایسے بوسہ لیا دیا ہوتا
اب یہ امریکی افریقن خاتون ہماری جانب کچھ ایسی تیزی سے بڑھیں کی ہمیں سوچنے کا موقع ہی نہ ملا جھٹ سے اپنا گال آگے کر دیا
بعد میں میں اور بھائی ہنستے رہے کہ یار اسپین میں پہلا بوسہ لیا بھی تو ایک کالی افریقن کا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *