گورنر مکہ اور اسپین کا محل ایک کھلا تضاد

گورنر مکہ اور اسپین کا محل ایک کھلا تضاد

دینہ سے قرطبہ داستان ہجرت قسط اکیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوران قیام قرطبہ کچھ دن کےلئے واپس گاوں گیا واپس آیا تو دوست کھانا کھا رہے تھے مجھ سے پوچھا تو میں بتایا میں تو مرغ کا گوشت کھا کر آرہا ہوں اسلئے میرے لئے نہ بنائیں تو ایک دوست حسرت سے بولے ظالم کم از کم فوٹو ہی کھینچ لاتے تقریبا ایک ماہ ہو گیا گوشت کی شکل دیکھے ہوئے
ان دنوں قرطبہ میں مسلمانوں کی آبادی بہت کم تھی حلال گوشت کی دوکان نہی تھی گوشت جب کوئی میڈرڈ 400کلومیڑ جاتا تو ایک ساتھ دو چار کلو لے آتا
گاوں میں مرغی یا بکرہ خود لے کر ذبح کر لیتے تھے

قرطبہ میں تین چار ماہ فارغ بیٹھنے کے بعد بالاخر ایک کام کی آفر بزریعہ اپنے دینہ کے دوست عاصم روف کے بطور ہیلپر تندور ایک پاکستانی ریسٹورنٹ میں ملی جو Estepona کے گاوں میں تھا یہ گاوں ساحل سمندر پر Malaga سے Algeciras شہر جاتے ہوئے درمیان میں ہے اسپین کے تین اطراف میں سمندر ہے اور ایک جانب فرانس کی سرحد
ان ساحلوں کی وجہ سے اسپین کی ٹوریسٹ انڈسڑی بہت زیادہ چلتی ہے Estepona کے علاقہ میں انگلینڈ سے آنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد تھی
رسٹورنٹ کا مالک لاھوری پاکستانی تھا ان دنوں سیزن آف تھا اس لئے کام بہت کم تھا ہماری تنخواہ اسی ہزار پسیتہ طے پائی اس وقت پسیتہ پاکستانی تینتیس روپے کے برابر تھا تندور پر ضیغم نام کا لڑکا کام کرتا تھا جس کی معاونت کرنی تھی وہ مالک کا بھانجا تھا
یہ سارا علاقہ پوش علاقہ کہلاتا ہے Marbellia سے Algecirasکا سوکلومیڑ کا ساحل سمندر برٹش جرمن اور عرب سیاحوں سے بھرا رہتا ہے لاکھوں غیرملکیوں نے اس علاقہ کی گرم آب و ہوا سے لطف اندوز ہونے کےلئے اپنے مکانات خریدے رکھے ہیں
سعودیہ فرمانروا شاہ فہد نے اپنا محل برلب سڑک تعمیر کر رکھا تھا جس کی تعمیر پر اس وقت کے دو سو ملین ڈالر خرچ آئے تھے اس میں بیشتر مزدور سعودیہ سے ہی ساتھ لائے گئے تھے جن میں پاکستانی انڈین بنگلہ دیشی انڈونیشن شامل تھے ان مزدورں کےلئے اسپین گورنمنٹ نے الگ سے ریذیڈنٹ کارڈ بناکر دے رکھے تھے
ان ہی ورکروں میں سے کچھ سے ہماری دوستی ہو گئی دوران نماز جمعہ کی ملاقاتوں کے ،
اسپین حکومت کی اجازت سے Marbilla کی بڑی موٹر وے کے ساتھ ایک جامع مسجد تعمیر کی ہوئی تھی سعودی حکومت نے
شاہ فہد یوں تو اپنی زندگی میں دو تین بار ہی اسپین آئے کچھ ہفتوں کےلئے مگر جب بھی آئے اسپین کا بافشاہ خان کرلوس Juan Carlos بزریعہ ہیلی کوپڑ ملنے جاتا
شاہ فہد کے ہمراہ دو سو تین سو خاندان آتے تھے اور ان دو تین ہفتوں کے درمیان اسپینیش معیشت کو کم از کم ہزار ملین ڈالر فائدہ پہنچتا تھا
مکہ کے گورنر نے بھی ساحل سمندر پر ایک بڑا مکان/محل لے رکھا تھا جہاں وہ دو سال میں دو تین ہفتوں کےلئے اتا ایسے ہی محل میں بطور گاڈنر کام کرنے والا سرگودھا کا لڑکا دوست بن گیا اس نے بتایا کہ محل کا ایک اسپینیش مینجر ہے اور ہم سارا سال کام کرنے کےلئے پانچ ملازم ہیں میں باغ کی دیکھ بال کرتا ہوں ایک چوکیدار اور ایک لانڈری والی لڑکی اور ایک گھر کے کیچن میں کام کرنے والی
سال دو سال بعد دو ہفتہ کےلئے آتے ہیں اور جاتے ہوئے اتنی بخشش دے جاتے ہیں کہ ہمارا کام بن جاتا ہے
محل کے اندر سیر کرتے ہوئے نیم برہنہ خواتین کے مجسمے جابجا لگے دیکھ کر میں نے دوست سے پوچھا کہ یوں ہی لگے رہتے ہیں جب مکہ کے گورنر آتے ہیں ؟
اسنے کہا ہاں بلکل میں سوچنےلگا کہ ایک طرف سعودیہ کے کسی ائیرپورٹ پر سامان سے کوئی مجسمہ یا کوئی ڈیکوریشن مسجمہ پر مبنی نکل آئے تو وہ ضبط کر لیا جاتا ہے اور ادھر نیم برہانہ مجسمے آنکھوں کے سامنے کھڑے
کیا یہ کھلا تضاد نہی ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *