شراب کی کمائی حلال کیسے کی جائے ؟

شراب کی کمائی حلال کیسے کی جائے ؟

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط تئیس
—————————————-
ہماری کباب شاپ RedOnion پر شروع میں بہت کم اسپینش آتے تھے اکثر بوڑھے باہر کھڑے ہوکر ڈونر مشینوں پر پکتے گوشت دیکھ کر حیران ہوتے انکے لئے یہ بلکل نئی چیز تھی البتہ جوانوں میں وہ لوگ جرمنی فرانس انگلینڈ سیر یا تعلیم کےلئے جا چکے تھے ان کےلئے جانی پہچانی چیز تھی یہ سن دو ہزار دو2002کی بات ہے
کھبی کھبار بوڑھوں کا کوئی گروپ آٹھ دس کی صورت میں آتا بھی تو میز لگاتے ہوئے شراپ Cerveza مانگتا جب ہم کہتے کہ یہاں شراب فروخت نہی کی جاتی تو وہ حیران و پریشان ہوجاتے کہ یہ کیسے ممکن ہےریسٹورنٹ ہو اور شراب نہ ہو وہ فورا آٹھ کر چلے جاتے
ہمارے لئے سخت آزمائش کا مقام ہوتا کہ دس افراد اٹھ کر جارہے ہیں مگر ہم نے اول دن سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ شراب نہی فروخت کرنی اگر رب نے رزق کا وعدہ کیا ہے تو ضرور دے گا چائیے دیر سے سہی
اس دوران کئی مراکش کے مسلمان دوست یا پاکستانی دوست آئے اور ہمیں مشورہ دیا کہ شراب کونسا آپ نے پینی ہے اور گاہک تو غیر مسلم ہے وغیرہ
ایک صاحب نے تو ایک یونیک مشورہ دیا کہ آپ اپنی آمدن میں حرام کی آمیزش نہی کرنا چاہتے تو شراب کی خرید و فروخت کا حساب کتاب کا کھاتا الگ کر لیں وہ آمدن غریبوں میں تقسیم کر دیا کریں
یہ مشورہ سن کر قران کا وہ قصہ یاد آ گیا جس میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا ذکر ہے جب رب نے ان کو ہفتہ کے روز یوم سبت کو مچھلی کے شکار سے منع فرمایا تو انہوں سمندر کے کنارے حوض بنا کر نالیوں کے زریعہ پانی اس جمع کر لیا کیونکہ ہفتہ کے روز سمندر کا پانی زیادہ باہر نکلتا اور مچھلیاں زیادہ آتی تھیں بنی اسرائیل نے رب کے حکم کو مکمل ماننےکی بجائےحیلہ سازی کا سہارہ لیا
رب کا شکر ہے کہ اس نےاس مشکل وقت میں ہم کو ثابت قدم رہنے کی توفیق دی اس دوکان پر شراب نہ رکھنے کی روایت پڑی تو بعد میں قرطبہ اور اس کے گردو نواح میں جتنے ڈونر کھلے انہوں نے اسی روایت کو کاپی کیا اور آج بھی اس علاقہ میں نوے فیصد کباب شاپس پر شراب فروخت نہی ہوتی ،

ان دنوں پاکستان کال کرنے کےلئے ہم pco جس کو اسپینیش میں locutorio کہا جاتا ہے استعمال کرتے تھے ان ہی دنوں کالنگ کارڈز کی سہولت کا آغاز بھی ہوا ہمارے دوست مسلم عباللہ صاحب جو پہلے Belmezمیں ہمارے میزبان تھے اور مارکیٹ لگایا کرتے تھے وہ میڈرڈ Madrid چلے گئے اور انہوں نے کالنگ کارڈز کی ایجنسی لے لی اور قرطبہ کے گردو نواح کےلئے ایجنسی ہم کو دے دی
شروع میں ڈونر کی دوکان پر ہی کارڈز فروخت کرنے شروع کیے بعد میں میں نے مکمل طور پر کارڈز فروخت کرنا شروع کر دئیے اور دوکان بڑے بھائی اعجاز نے سنھبال لی
کارڈز کے گاہکوں میں ایک پاکستانی گاہک ایسا تھا جو روز کے دو کارڈ استعمال کرتا جن کی مالیت بیس یورو بنتی تھی اور وہ ایک اون چننے کی فیکڑی میں کام کرتا تھا اس کی تازہ تازہ منگنی ہوئی تھی مہینے کے بعد تنخواہ ملی تو کمرہ کا کرایہ دینے کے پیسے باقی نہی بچے اس کے پاس کیونکہ عشق و محبت کی نشیلی باتوں میں پوری تنخواہ فون کرنے پر خرچ کر چکا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *