اسپین امریکہ اور ہم

اسپین امریکہ اور ہم

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط پچیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ہم اسپین آئے تھے تو اس وقت اسپین میں سرمایادارانہ نظام کی حامی اور امریکہ نواز پارٹی PP پاپولر پارٹی کی حکومت قائم تھی جس کے وزیراعظم Jose maria azhnar تھے جسطرح جنرل مشرف امریکہ کی آنکھوں کا تارہ تھا ایسے ہی اظنار کے بش کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے
اسپین میں جمہوری نظام نو زائیدہ ہے انیس چالیس کی خانہ جنگی سے لے کر انیس و اٹھہتر تک فوجی آمریت تھی جنرل فرانکو ہر چیز کا مالک تھا جس نے عئیسائی مذہبی گرہوں کو اپنی حمایت کے لئے استعمال کیا تھا اس نے یورپ کے دیگر ممالک کی نسبت یہاں کچھ قدیم روایات اور خاندان کو مضبوط بنانے والی روایات کو پرموٹ کیا یہ معلومات بڑی عمر کے اسپینش لوگوں سے گفتگو کے دوران ملی

ہم جب پہلی بار پاکستان گئے تھے تو اس دوران ہی نو ستمبر ورلڈ ٹرینڈ سینٹر پر حملہ ہوا تھا واپسی پر پاکستانی ائیرپورٹ پر امیگریشن عملہ نے ہمیں روکا پاسپورٹ پر پاکستان سے Exit کی مہر نہ لگنے کی وجہ سے بلائی عملہ تک لے گئے کمرے کے اندر پہنچے تو بجائے پاکستانی عملہ کے ایک گورا غالبا امریکن آفیسر تھا جس نے ہمارا پاسپورٹ دیکھا اور ایک دو سوال کئے اور ہمیں کلئیر قرار دے دیا

اس وقت بش نے افغنستان پر حملہ کا پلان کا اعلان کر رکھا تھا اور پرویز مشرف کی حکومت نے امریکن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا پاکستان کے ائیرپورٹ پر آنے جانے والوں پر براراست نگرانی کا اختیار دوسرے ملک کو دینا گویا اپنے ملک کی خودمختاری کو سرنڈر کرنا ہوتا ہے
اسپین کی حکومت نے افغانستان کی جنگ میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا اور اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں ناٹو افواج میں اپنا فوجی دستہ بھی بھیجا
مگر اسپین کی اپوزیشن جماعتیں جن میں سوشلسٹ اور کیمونسٹ نظریات کی جماعتیں شامل تھیں انہوں نے اس کی بھرپور مخالفت کی
اور جب بش نے 2003 میں عراق پر حملہ کا اعلان کیا تو اسپین کی اپوزیشن اور سول سوسائٹی نے مل کر ایک مہم No la Guerra جنگ نہی کا اعلان کر دیا اور پورے اسپین میں بڑے بڑے مظاہرے کرنا شروع کر دئیے بارسلونا Barcelona اور میڈرڈ Madrid جو اسپین کا درالحکومت ہے میں تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے ہوئے ایسا ہی ایک مظاہرہ قرطبہ Cordoba میں ریلوے اسٹیشن کے سامنے سے شروع ہوا جو شہر بھر میں گھوما
ہم نے بھی اس مظاہرے میں شمولیت کی اس مظاہرے میں اخباری اطلاعات کے مطابق پچاس سے پچھتر ہزار افراد شامل تھے ایک اسپینش اپنے بچوں سمیت شامل تھا اس نے ہمیں دیکھا تو قریب آکر اسلام و علیکم کہا ہم حیران ہوئے تو اس نے اپنا تعارف کروایا کہ اسکا نام ابراہیم ہے اور وہ اسپینش مسلمان ہے اسپین میں یوں تو مراکش الجریا پاکستان سینگال کے مہاجرین مسلمان سے ملاقاتیں تو ہوئی تھیں لیکن اسپینش نسل کے مسلمان سے ہماری یہ پہلی ملاقات تھی اس سے دوستی اب تک برقرار ہے

اسپین میں عراق کے خلاف بے انصافی پر مبنی مسلط کی جانے والی جنگ پر عوام کی اکثریت ناخوش تھی دو ہزار چودہ 2004کی مارچ میں میڈرڈ میں دہشت گردی کا ایک ہولناک واقعہ ہوا بیک وقت تین سے چار بم دھماکے ہوئے میڈرڈ کی ٹرینوں میں جس میں کافی جانی نقصان ہوا اور عوام میں تاثر بڑھا کہ پرائی جنگ میں حصہ لینے کا یہ خمیازہ بھگتنا پڑا ہےاسلئے جیسے ہی الیکشن ہوئے امریکہ نواز حکومت کو بدترین شکست ہوئی اور سوشلسٹ پارٹی برسراقتدار آگئی جس کے وزیراعظم Rodrigo Zapatero بنے

زپاتیرو انکا فیملی نام تھا اسپینیش میں زپاتیرو موچی کو کہا جاتا ہے اسپین میں موروثی سیاست کا رواج نہی ہے یہاں سیاسی جماعتوں کی قیادت نیچے سے اوپر منتخب ہو کر آتی ہے
نئی حکومت نے آتے ہی افغانستان اور عراق سے اپنے فوجی دستے واپس بلانے کا اعلان کر دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *