قرطبہ کے اسی سالہ جوان پاکستانی بابا

قرطبہ کے اسی سالہ جوان پاکستانی بابا

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط چھبیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شروع میں چونکہ زبان اتنی زیادہ نہی آتی تھی اسلئے دوکان پر کام کےلئے ایک اسپین کا پیدائشی لڑکا رکھا جسکے والد آزادکشمیر کے شہر کوٹلی سے تعلق رکھتے تھے اور والدہ مراکش سے تعلق رکھتی تھیں لڑکے کا نام امین تھا اسکے والد اس وقت ستر سال کی عمر کے لگ بھگ تھے جو سن پچاسی چھیاسی میں اسپین میں مزدوری کےلئے آئے تھے اس وقت ستر سال کی عمر میں بھی ہفتہ میں پانچ دن مختلف گاوں میں لگنے والی مارکیٹوں میں گھر میں استعمال ہونے والی چادریں کمبل اور خلاف وغیرہ کا اسٹال لگتے تھے بڑی وین بھی خود چلاتے تھے اور یہ کام وہ دو تین سال پہلے تک یعنی اسی سال کی عمر تک مسلسل کرتے رہے امین کی والدہ بھی محنتی عورت ہیں وہ بھی صوفی صاحب کا ساتھ دیتی ،
صوفی صاحب پاکستان سے جب آئے تھے تو وہاں بھی شادی شدہ اور بچوں والے تھے لیکن اب گزشتہ تیس برس سے اسپین میں ہی ہیں اور نئی شادی اور بچے اب ان کی زندگی ہیں شہر سے باہر ایک اونچی پر فضا مقام پر جگہ خرید کر خود ہی قسطوں میں آہستہ آہستہ مکان تعمیر کیا شروع میں جب ہم فارغ ہوتے تو ان کے ہاں اکثر جایا کرتے صوفی صاحب اور ان کی بیگم مراکشی کھانوں اور قہوہ سے مہمان نوازی فرماتے صوفی صاحب سے اسپین میں قیام کے ان کے اولین ایام کے قصے سنتے وہ زیب داستاں کےلیےاکثر قصوں کو مرچ مسالہ لگا کر سناتے ہم بھی فارغ ہوتے تھے اسلئے خاموشی سے سنتے رہتے تھے
قرطبہ میں اس وقت ایک چھوٹی سی پرانی مسجد المرابطون نام کی ایک پارک کے وسط میں قائم تھی اس پارک کا نام Plaza colon ہے یہ مسجد دوسری جنگ عظیم کے دوران مراکش کے مسلمان فوجی دستوں کے لئے بنائی گئی تھی جو یہاں جنرل فرانکو کی مدد کے لئے آئے تھے برسوں یہ مختلف دفاتر کے طور پر استعمال ہوتی رہی اور اسی کی دہائی میں مراکش کے مسلمانوں نے اس بلدیہ سے حاصل کیا بقول صوفی شان کے کہ ایک عرصہ بند رہنے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی اسے مرمت کروایا گیا اور شروع میں چھوٹے لوڈ اسپیکر پر اذان دیتے رہے صوفی صاحب بعد میں اس پر پابندی لگ گئی کے اسپیکر استعمال نہی کرنا ۔
ہماری دوکان کو ایک سال ہوا تو ہمارے انگلینڈ کے کاروباری پاٹنر نوید ہاشمی صاحب نے مل کر فیصلہ کیا چونکہ کام اتنا زیادہ نہی اخراجات زیادہ ہیں اسلئے ایک فرد ہی اسے لے کر چلائے تاکہ وہ انتظام بہتر چلا سکے یوں دوکان ہم نے سنبھال لی اس زمانے میں ڈونرکباب کا سامان ہم میڈرڈ سے لیتے تھے جو چار سو کلو میٹر دور تھا اکثر سامان کم پڑتا تو جا کر لانا پڑتا یوں سامان سے زیادہ اس کا خرچ پڑ جاتا
کچھ ماہ بعد مزید پاکستانیوں نے ڈونر کھولنے کی خواہیش کا اظہار کیا تو ہم نے ان کو مکمل گائیڈ کیا اور ساتھ ہم نے سامان لا کر دینے کی حامی بھری
انگلینڈ میں مقیم بڑے بھائی الیاس نے ہمیں انگلینڈ سے کچھ کمپنیوں سےبات کر کے سامان ارسال کرنا شروع کر دیا یوں ہم ڈونر کباب پراڈکٹ کے سپلائر بن گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *