جہاں جوتے اتارنا ممنوع : مسجد قرطبہ

جہاں جوتے اتارنا ممنوع : مسجد قرطبہ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط ستائیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرطبہ کے جس محلہ میں ہماری کباب شاب اور رہائش تھی اسکا نام باغات کا شہر Cuidad Jardin تھا یہ صرف نام کی حد تک نہی تھا بلکہ اس محلہ میں کافی پارک بنے ہوئے تھے جہاں پھول اور درخت ترتیب سے لگائے گئے تھے چونکہ قرطبہ اسپین میں سب سے گرم شہر کہلاتا ہے اسلئے یہاں کی بلدیہ نے شہر بھر میں درخت لگا رکھےہیں موسم گرما میں یہاں کا درجہ حرارت پینتالیس درجہ تک پہنچ جاتا ہے

پہلی دوکان کو دو سال ہوئے تو پھر شہر کے دوسرے حصہ میں دوسری دوکان کھولی اور اس دوران تین چار مزید دوکانیں بھی شہر میں کھل گئیں جن سب کو سارا سامان ہم سپلائی کر رہے تھے
اسی دوران دینہ سے ہمارے دوست مامون الرشید صاحب ویزہ پر آسڑیا آئے تو وہاں سے ہمارے پاس تشریف لے آئے
کچھ دن بعد مسجد قرطبہ دیکھنے کا پروگرام بنا تو وہاں پہنچے تو مامون صاحب نے مسجد کے اندر جوتوں سمیت جانے سے انکار کردیا مسجد قرطبہ جو اب ایک چرچ اور میوزیم بن چکا تھا وہاں کی سکیورٹی واضح طور پر آپ کو منع کرتی ہے کہ ٹوپی پہن کر اور جوتے اتار کر اندر نہی داخل ہو سکتے کیوں کہ ان کو معلوم ہے کہ مسلمان مسجد میں عبادت کرتے ہیں اسلئے انہوں نے یہ سختی کر رکھی ہے

ہم نے مامون صاحب کو دلیل دی کہ یہ اب مسجد نہی رہی یہ میوزیم ہے اسلئے جوتوں سمیت چلے چلتے ہیں لیکن مامون صاحب چونکہ پاکستان میں دینی مدرسہ کے متمہم رہے تھے اور ماشاللہ سے داڑھی بھی پوری علما والی تھی اسلئے ان کو یہ چیز گوارا نہ لگی
لیکن دو تین سال اسپین میں رہنے کے بعد مامون صاحب کے خیالات تبدیلی آئی اور پھر وہ کئی بار مہمانوں کو مسجد دیکھانے لے کر گئے جوتوں سمیت،

ہماری سپلائی کے کام میں مامون صاحب نے دو تین سال کام کیا ان دنوں اتنی سختی نہی تھی بغیر لائسینس گاڑی چلا سکتے تھے اگر پولیس روکتی تو پاکستانی انٹرنیشل لائسینس دیکھا کر کام چلا لیتے تھے لیکن کچھ سالوں بعد قانون سخت بنا دیا گیا اور بغیر لائسینس گاڑی چلانے پر جرمانوں کے ساتھ جیل کی سزا لاگو ہو گئی
مامون صاحب کی داڑھی ماشالللہ کافی لمبی تھی اور نو ستمبر کے واقعہ کے بعد ہمیں ڈر ہی رہتا کہ کہیں پولیس تنگ نہ کرے اسپینیش میں داڑھی کو باربا کہا جاتا ہے
داڑھی کی وجہ سے کھبی ان کو پولیس نے زیادہ تنگ نہی کیا البتہ روک کر کاغذات وغیرہ ضرور چیک کرتے رہے سسپینیش کلائینٹ مامون صاحب کو مامون کی بجائے سنیور باربا کہتے یعنی داڑھی والی سرکار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *