قرطبہ کا پہلا پیار

قرطبہ کا پہلا پیار

دینہ سے قرطبہ داستان ہجرت قسط اٹھائیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جسطرح قیام برطانیہ کے دوران وہاں کی مقامی لائبریری کی ممبرشب لے کر فارغ وقت میں کتب بینی کرتا رہا اسیطرح جب قرطبہ مستقل رہائش حاصل کر لی تو سوچا اب یہاں کے کتب خانوں سے استفادہ کرنا چائیے اس وقت موبائل پر انٹرنیٹ کی سہولت کا آغاز نہی ہوا تھا یہ سن دو ہزار تین چار کی بات ہے اسلئے فارغ وقت کا یہ بہترین مصرف ہو سکتا تھا دوسری طرف ڈیرے پر جو فارغ نوجوان تھے وہ اکثر تاش کی کھیل سے اپنا وقت پاس کرتے ٹیلی ویژن پر سارے پروگرام اسپینش میں ہوتے تھے اسلئے وہ بھی بہت کم دیکھا جاتا،
میں اللہ کا نام لے کر لائیبریری کی تلاش میں باہر نکلا شہر کے سینٹر کے قریب پہنچ کر ایک دو اسپینشوں کو روک کر پوچھا ایک کو ہماری انگلش سمجھ نہ آئی دوسرے نے اشارہ کرکےاسپینیش میں سمجھانے کی کوشش کی یوں تو یہ یورپ کا حصہ ہے لیکن یہاں انگلش زبان بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں اور ایک ہمارا پاکستان جہاں انگریزی کو ترقی اور تعلیم کی ضمانت سمجھا جاتا ہے خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا
جب دو چار موڑ کاٹ کر اسپینش کی بتائے گئے پتہ پر پہنچا تو وہاں کتابوں کی ایک دوکان ملی جس کے بورڈ کے اوپر Librería لکھا تھا دوکان کے اندر داخل ہو کر کتابیں دیکھیں جو سو فیصد اسپینیش میں تھی میں سمجھ گیا کہ یہ خرید و فروخت والی دوکان ہے یہاں کتب مفت میں پڑھنے کی کوئی سہولت نہی دوکاندار سے انگلش میں پوچھنے کی کوشش کی تو آگے سے اسپینیش میں جواب ملا جو ہمارے سر کے اوپر سے گزر گیا ہاتھ کے اشاروں سے اندازہ لگایا کہ کس جانب ڈائرکشن بتا رہی ہے
اسکے بتائے گئے پتہ والی بلڈنگ پر پہنچا تو اندر بڑے ہال میں بے شمار طلبا کو ٹیبلز کے ارد گرد خاموشی سے مطالعہ کرتے دیکھا تو دل خوش ہو گیا کہ منزل پر پہنچ گیا مگر شومئی قسمت کہ جیسے ریسپشن پر پہنچا تو وہاں موجود بندے نے بتایا کہ یہاں کتب وغیرہ نہی ہوتیں وہ آپ کو گھر سے لانی پڑتی ہیں یہ طلبا کہ لئے ایک پرسکون جگہ بنائی گئی ہے تاکہ جو یونیورسٹی کے طلبا مختلف گاوں سے آکر شہر میں روم شئیر کرکے رہ رہے ہوتے ہیں ان کو گھر میں پرسکون ماحول نہی ملتا اس بندے کو انگلش آتی تھی اسلئے اس نے اس دفعہ مجھے لائیربری کا اسپینش لفظ بتایا ببلوتےکا Bibloteca اور ساتھ مکمل پتہ لکھ کر دیا
بالاخر تین چار گھنٹے کی خواری کے بعد اس مقام پر پہنچے اور وہاں بنے گئے معلوماتی ڈسک پر اپنا مدعا بیان کیا اسنے پاسپورٹ طلب کیا اور ایک فارم فل کرنے کو دیا اسطرح ہم لائیبریری کے ممبر بن گئے پاکستان اور برطانیہ میں لائبریری میں کتب شیلفوں پر لگی ہوتی ہیں آپ اپنی مرضی سے وہ پسند کرکے اجرا کروا لیتے ہیں لیکن یہاں مجھے کوئی شیلف دیکھائی نہ دیا ایک دیوار کے ساتھ ریک پر چند اخبارات اور میگزین پڑے اور ساتھ صوفے پڑے تھے اور ایک قطار کمپیوٹرز کی تھی
ڈسک پر موجود فرد نے میری گھومتی ہوئی نگاووں کو بھانپتے ہوئے مجھے ساتھ کیا اور کمپیوٹر پر لے گیا اور اس کے سرچ کے مختلف خانے بنے ہوئے تھے وہ باری استعمال کرنا سیکھائے کہ کتاب کا ٹائیٹل سے کتاب تکاش کرنی ہو یا لکھاری یا موضوع سے تو سرچ میں جو کتب نظر آئیں ان کے کوڈ دئیے گئے کاغذ پر لکھ کر ڈسک پر دیں گے تو اندر شیلفوں سے کتاب نکال کر آپ کو دے دی جاے گی
اس بندے نے مجھے ساتھ ایک لیف لٹ دیا کہ قرطبہ میں ہر محلہ میں بھی چھوٹی لائبریری موجود ہے جو کتب یہاں سے لو وہ وہاں واپس کر سکتے ہیں اور وہاں سے کتب لینی ہو تو ان کے پاس ریکارڈ میں نہ ہو تو وہ یہاں سے اڑتالیس گھنٹے میں منگوا کر آپ کو دے سکتے ہیں
ایک وقت میں ساتھ کتب اور دو سی ڈی لے سکتے ہیں
ہم نے اس کے بتائے گئے طریقہ کو استعمال کرتے ہوئے کچھ تلاش کرنے کی پہلی کوشش لفظ پاکستان لکھ کر کی تو ایک دو رزلٹ نظر آئے جن میں ایک رزلٹ نصرت فتح علی خان کی سی ڈی کا تھا ہم نے وہ کوڈ لکھ لیا
پھر اسلام لکھا تو کئی رزلٹ نظر آئے ایک دو لکھ لئے
یوں ہمارا اور قرطبہ سینٹرل لائیبریری کا پیار شروع ہوا
میرے خیال میں مجھ سے پہلے اور بعد میں اب تک شاید ہی کوئی دوسرا پاکستانی ہو جس نے لائبریری کی ممبر شب لی ہو ہمارے اکثر لوگ محنت مزدوری میں ہی مگن رہتے ہیں پڑھنے والے کاموں سے کوسوں دور بھاگتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *