قرطبہ کی نیو ائیر نائٹ اور ہم

قرطبہ کی نیو ائیر نائٹ اور ہم

جیسے جیسے شام ہو رہی تھی لوگوں کی ٹولیاں قرطبہ کے مرکزی چوک میں جشن سال نو منانے کےلئے ہر گلی محلہ سے روانہ ہو رہی تھیں جہاں قرطبہ شہر کی بلدیہ کی جانب سے چراغان اور موسیقی اور آتش بازی کی جانی تھی
ہم برسوں سے قرطبہ میں رہ رہے تھے اور اس جشن سے لاتعلق رہے آج سوچا جا کر آنکھوں دیکھا حال بھی ملاحظہ کر لیا جائے
دریائے کبیر پر قائم قدیم یونی پل جس کے آغاز میں قائم سرحدی چوکی جسے عربی میں قلعہ الحریہ کہا جاتا تھا اور آج کل Torre de Calahorra سے گزرتے ہوئے سابقہ جامع مسجد قرطبہ اور حالیہ چرچ کی شمالی دیوار سے آگے بڑھا جہاں سے قرطبہ کے مرکزی چوک کا فاصلہ پانچ سو سے سات سو میٹر تھا
جیسے ہی مسجد کے مرکزی مینار و مرکزی دروازہ کے قریب پہنچا تو ایک عربی عبا پہنے لمبی داڑھی میں ملبوس بزرگ کھڑے نظر آئے میں اسے تخیلاتی وہم سمجھ کر آگے بڑھنے لگا تو انہوں نے مجھے مخاطب کیا اے نوجوان کیا تجھے معلوم نہی بعد از نماز مغرب ہمارا درس حدیث ہوا کرتا ہے تم ابھی تک مسجد کے باہر گھوم رہے ہو
میں حیران و پریشان ہوا اور بزرگوں سے پوچھا حضرت آپ کا تعارف اور آپ کس درس کی بات کررہے ہیں میں گزشتہ پندرہ برس سے یہاں مقیم ہوں مجھے تو ایسے کسی درس کا علم نہی ہوا
اب حیران ہونے کی باری ان کی تھی کہنے لگے میرا نام
ابو محمد یحیحی لیحیثی ہے لوگ مجھے یحیحی ابن یحیحی کے نام سے پکارتے ہیں میں ابھی مدینہ سے امام مالک ابن انس سے موطا ابن مالک کی تعلیم لے کر آیا ہوں اور اسی کا درس جامع مسجد قرطبہ میں دے رہا ہوں خلیفہ قرطبہ الحکم کی مجلس شوری کا اہم رکن ہوں
میں حیران ہو رہا تھا کہ آیا میں خواب میں عالم ارواح کی سیر کر رہا ہوں یا یہ بزرگ عالم ارواح سے زمین پر آئے ہوئے ہیں خیر اپنی معلومات بڑھانے کیلئے میں نے ان سے پوچھا کہ مدینہ رسول کی کچھ باتیں تو بتائے جہاں آپ تعلیم حاصل کرکے آئے احادیث سیکھ کر آئے
بزرگوں نے مجھے گلی سے مسجد کے مرکزی دروازہ کے قریب زمین پر بیٹھنے کو کہا اور پھر گویا ہوئے اور کہا کہ ان کی طرح سینکڑوں طلبا دنیا بھر سے آئے ہوئے تھے جو امام مالک بن انس درس حدیث لے رہے تھے ایک دن کسی نے خبر دی کی مدینہ میں ہاتھی آ رہے ہیں کہیں سے چونکہ عرب میں ہاتھی نہی ہوتے اسلئے تمام طلبا اٹھ کر بھاگے ہاتھی دیکھنے لیکن میں اکیلا امام کے سامنے بیٹھا رہا امام نے مجھ سے پوچھا کہ یحیحی تم کیوں نے گئے تو میں نے کہا میں اندلس سے ہزاروں میل کا سفر کرکے ہاتھی دیکھنے نہی آیا آپ سے علم سیکھنے آیا ہوں امام نے مجھے گلے لگایا لیا اور اللہ کا شکر ہے کہ میں نے موطا امام مالک اپنے ہاتھ سے نکل کی اور اندلس میں اس کی تعلیم کا آغاز کیا اور اب میرے طلبا جو فقہ مالکی کے ماہر ہوتے ہیں ان کو خلیفہ کی سفارش سے مختلف علاقوں میں عدالتوں کا قاضی مقرر کرواتا ہوں
قاضی یحیحی ابن یحیحی کی دلچسپ رودار جاری تھی اور وقت گزر رہا تھا مسجد قرطبہ کے مینار پر پیوست چرچ کی گھنٹیوں نے بارہ بجنے کا اعلان کیا
تو قاضی یحیحی ابن یحیحی کا رنگ متخیر ہو گیا ان کی نگاہیں مینار کے اوپر لگی گھنٹیوں کی جانب اٹھی اور ان کو جیسے احساس ہوا کہ وہ عالم ارواح سے یہ کس جگہ غلطی سے آگئے ہیں میں نے بولنے کےلئے لب کھولے ہی تھے کہ ان کا ہیولہ غائب ہو گیا
میں کئی لمحہ وہیں مبہوت ہو کر بیٹھا رہا اٹھ کر مرکزی چوک جانے کی خواہیش دم توڑ چکی تھی میں اپنے آپ کو ان طالبعلموں میں سے ایک سمجھ رہا تھا جو احادیث کے درس کو چھوڑ کر ہاتھی دیکھنے بھاگ گئے تھے اسی ندامت و شرمندگی سے قدم واپس اپنے گھر کی جانب اٹھا دئیے
فیاض قرطبی
اکستیس دسمبر 2016

img_1038

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *