ہماری کامیابی کا راز ؟

ہماری کامیابی کا راز ؟

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط انتئس
—————————————-
ہمارے شروع کئے گئے کاروبار کے پہلے چار پانچ سال کافی سخت تھے اسپین رقبہ کے لحاظ سے کافی پھیلا ہوا ملک ہے ہم جس صوبہ میں مقیم ہیں اس کو اندالسیہ Andalucia کہا جاتا ہے مسلم دور حکومت میں اندالس کا نام پورے اسپین اور پرتگال کےلئے بطور ملک استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب یہ چھ اضلاع مشتمل ایک ریجن جسے اسپینیش میں Commuindad کہا جاتا ہے ہر ریجن کی اپنی پارلیمنٹ ہوتی ہے اپنا جھنڈا اور اپنے قوانین ،
اندالسیہ میں ڈونر کباب کے تقسیم کرنے والے پہلے پاکستانی ہم بنے یوں جس شہر یا گاوں میں کوئی پاکستانی دوکان کھولنا چاہتا وہ سامان کی سپلائی کےلئے ہم سے رابطہ کرتا
یوں ایک دوکان بعض دفعہ تین سو کلو میٹر دور ہوتی اور کوئی دو سو کلومیٹر کسی دوسری سمت
میں نے ایک دن بڑے بھائی سے کہا کہ اتنی بچت نہی ہوتی جتنا پیٹرول کا خرچ آجاتا ہے اتنی دور دور ڈیلیوری اور وہ بھی بغیر ایکسڑا ٹرانسپورٹ کے چارجز کے تو انہوں نے کہا کہ شروع میں ہمیشہ گاہگ بنایا جاتا ہے اس سے منافع کمانا کےلئے مستقبل کے کئی سال پڑے ہیں اور یہ بات درست ثابت ہوئی کہ جس روٹ پر ایک دوکان ہوا کرتی تھی کچھ ماہ بعد کئی دوکانیں بن گئیں اور ہمارے ٹریول کے اخراجات تقسیم ہو کر کم ہو گئے
بعض دفعہ کلائینٹ کی کوئی مشین خراب ہو جاتی یا کوئی پراڈکٹ میں شکایت آتی تو ہمیں تین سو چار سو کلومیٹر سفر کر کے اس کو مفت سروس دینی پڑتی کئی دفعہ غلطی کلائینٹ کی ہوتی کے اس کو مشین کے استعمال کا پتہ نہی ہوتا تھا یا پراڈکٹ کو محفوظ کیسے کرنا ہے وہ معلوم نہ ہوتا اور چیز خراب ہو جاتی
ریاض بھائی جو کسی زمانہ میں جاپان بھی رہے ہیں نے بتایا کہ جاپانیوں کا ایک مقولہ ہے گاہک خدا ہوتا ہے
یعنی آپ کی روزی کا منبہ اسلئے اس کی ہمیشہ عزت کرنی چائیے اور اس کی ہر شکائت جو درست مان کر حل کرنا چائیے
ہمارے کاروبار کی کامیابی کے رازوں میں سے ایک بڑا اہم راز یہ فارمولا بھی ہے ہمارے کئی دوست ایسے ہیں جو اول دن سے ہمارے ساتھ منسلک ہیں کئی دوسری کمپنیاں ان کے پاس آئیں لیکن انہوں نے ان کمپنیوں کو صاف جواب دے دیا
ہمارے جتنے جاننے والے جرمنی فرانس یونان سے اسپین منتقل ہوئے ہم سے مشورہ مانگا تو ہم نے ان کو اس کاروبار میں آنے کا مشورہ دیا کہ اپنا کاروبار ہوگا حلال کام اور ساتھ کئی دوسرے لوگوں کےلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے عمومی طور پر جو پاکستانی اسپین آ رہے تھے ان کی اکثریت کسی خاص ہنر کی ماہر اور اعلی تعیلم یافتہ نہی تھی اسلئے اسپین کمپنیوں میں نوکری ملنے کے امکانات کم تھے زیادہ سے زیادہ جو کام مل رہے تھے وہ کھیتی باڑی میں بطور مزدور کا کام تھا اسکی نسبت ڈونر کباب کے کام کےلئے اتنی زیادہ مہارت اور اتنے زیادہ سرمایا کی ضرورت نہ تھی اور اسطرح نہ صرف ایک فرد باروزگار ہوسکتا تھا بلکہ ایک دوکان میں دو سے تین افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے تھے
اندلس میں آج جتنے پاکستانی رہائیش پذیر ہیں ان کی اکثریت ڈونر کباب کی دوکانوں کے مالکان یا ان کے اوپر کام کرنے والوں کی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *