قرطبہ کا وہابی میزبان اور پیر امین الحسنات

قرطبہ کا وہابی میزبان اور پیر امین الحسنات

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط تیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرطبہ شہر پوری دنیا میں تاریخی مسجد قرطبہ کی وجہ سے مشہور ہے اور اردو بولنے والوں میں اس کی پہچان اقبال کی مشہور نظم مسجد قرطبہ بنی یہ نظم انہوں انیس سو بتیس 1932 میں لکھی تھی جب وہ گول میز کانفرنس لندن سے اسپین میں تشریف لے کر آئے تھے اور مسجد قرطبہ کا دورہ کیا اور یہاں باقاعدہ نماز ادا کی
انہوں نے اندلس کی اسلامی تاریخ کو اپنی مختلف نظموں میں بیان کیا جس میں مسجد قرطبہ ایک شاہکار نظم ہے جس میں قوموں کے عروج و زوال کے ازل سے قائم فلسفہ کے ساتھ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو بیان کیا گیا ہے
پاکستان سے اور انگلینڈ سے اکثر پاکستانی مسجد قرطبہ کو دیکھنے آتے رہتے ہیں اور اکثر ہمیں شرف میزبانی بخشتے رہتے ہیں
ان شخصیات میں کئی اہم اور مشہور نام بھی شامل ہیں جن سے ہمیں ملاقات کا موقع ملا چند چیدہ چیدہ افراد کا ذکر ہم کئے دیتے ہیں
پیر امین الحسنات شاہ (موجودہ وفاقی مشیر مذہبی امور )
پیر جسٹس کرم شاہ مرحوم بھیرہ شریف کے صاحبزادے ہیں اور درالعلوم بھیرہ شریف سلسلہ کے کئی درجن مدراس کے سرپرست ہیں
ان کے مدرسہ بھیرہ سے تعلیم یافتہ ایک طالب علم حافظ نور شاہ صاحب ہمارے دوست ہیں جو قرطبہ سے تین سو کلو میٹر دور شہر Huelva میں کباب پراڈکٹ سپلائی کرتے ہیں انہوں نے ہمیں مطلع کیا کہ پیر صاحب مسجد قرطبہ تشریف لا رہے ہیں وہ ان دونوں پاکستان گئے ہوئے تھے اسلئے ٹرین اسٹیشن سے ان کو ریسو کرکے مسجد قرطبہ دیکھانی ہے یہ شائد سن 2006,07کی بات ہے،
وہ تشریف لائے تو ان کے ساتھ بارسلونا سے ان کے کئی مریدین بھی ساتھ آئے تھے پیر امین الحسنات صاحب کو مسجد قرطبہ دیکھائی اور ان سے تاثرات پوچھے
تو کہنے لگے فیاض بیٹا یہ عمارتیں تو اسلام کی پہچان نہیں ہیں اسلام کی پہچان یا اسلام کی عظمت تو مسلمانوں کا کردار اور اسلام کا پیغام ہوتا ہے
عمارتیں تو رومن ایمپائر نے بھی دنیا بھر میں بنائی تھیں جو آج بھی کئی ممالک میں قائم ہیں لیکن ان کی تہزیب کلچر پیغام مٹ گیا
اسلام کا پیغام تو آج بھی اسی طرح قائم دائم ہے صرف حکمرانی کو زوال آیا ہے

دسترخوان فرشی بچھایا کر گھر ہی پر کھانے کا انتظام کیا دسترخوان پر پیر صاحب کی خاطر توضح کی گئی جسی انہوں نے سراہا
پیر صاحب نےفرمایا کہ ان کے مدرسہ میں کھبی بھی فرقہ واریت کی تعیلم نہی دی جاتی بلکہ ایک دوسرے کی تعظیم کا درس دیا جاتا ہے
پہلی ملاقات میں ہم نے ان کو ایک باعمل عالم دین پایا جو انتہائی شریف نفس ہیں ان کے مدرسہ کے پڑھے ہوئے طلبا کا ایک وصف یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مخاطب کو آپ جناب کہہ کر پکارتے ہیں یعنی بالمقابل کی تکریم و عزت کرتے ہیں

2 thoughts on “

قرطبہ کا وہابی میزبان اور پیر امین الحسنات

  1. ماشاءاللہ۔
    اللہ کرے زورقلم اور زیادہ۔۔۔
    قسط کا سائز ذرا بڑھائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *