یوم سقوط غرناطہ اور الحمرا کی چابیاں

یوم سقوط غرناطہ اور الحمرا کی چابیاں

دو جنوری 1492 وہ دن جب غرناطہ کا سقوط ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قصر الحمرا کے سرخ اینٹوں سے تعمیر کردہ درو دیوار عجیب منظر دیکھ رہے تھے کہ اس کا وارث ابو عبداللہ قصر کے مرکزی دروازہ پر عییسائی ملکہ ازابیلا اور اسکے شوہر فرنینڈو کے استقبال کےلئے بانفس نفیس موجود ہے
ملکہ گھوڑے پر سوار ہے اور قصر الحمرہ کا والی ابو عبداللہ معاہدہ کے مطابق محل کی چابیاں اسے پیش کرتا ہے اور اپنے اہل وعیال کو لے کر غرناطہ کے پہاڑی سلسلہ کی جانب چل نکلتا ہے
ملکہ ازیبلا اپنے عیسائی پادری کو آگے بڑھ کر محل کو پاک کرنے پاتسیمہ کرنے کی رسم کا آغاز کرنے کا حکم صادر کرتی ہے
ابو عبداللہ وادی غرناطہ کے آخری سرے پر پہنچ کر آخری نگاہ اپنے قصر پر ڈالتا ہے تو اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اس کی ماں اس کے قریب کھڑی اس کی بے بسی کو دیکھ کر بولتی ہے اے ابو عبداللہ جس سلطنت کو مردوں کی طرح لڑ کر بچا نہ سکا اس پر عورتوں کی طرح آنسو بہانا درست نہی
معاہدہ غرناطہ کی رو سے غرناطہ کے مسلمان رعایاکو سلطنت میں رہنے کی اور اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے کی مکمل آزادی ہوگی اور مسلمان دوکانداروں اور کاشتکار کی ملکیت برقرار رہے گی
یہ تاریخ کی تلخ سچائی ہے کہ فاتح ہمیشہ مفتوح کو جھوٹے وعدے اور تسلیاں دے کر اس کی آخری مزاحمت کو ختم کرکے پھر معاہدے کی دھجیاں اڑا دیتا ہے
اور یہی غرناطہ میں ہوا
کچھ سال بعد کچھ مسلمانوں کی اشتعال انگیزی کو بنیاد بنا کر مسلمانوں پر طرح طرح کی نئی پابندیاں لگانا شروع کر دی گیئں
معتصب عیسائی پادری نے ملکہ کو اس بات پر اکسایا کہ مسلمانوں کو اپنی تاریخ اور مذہب سے رشتہ کاٹنے کےلئے ان کی ساری کتب کو جلا دیا جائے تاکہ آئیندہ آنے والی نسلیں اپنی تاریخ سے اور اسلامی تعلیمات سے ناآشنا رہیں
پھر آسماں نے وہ شرمناک منظر بھی دیکھا جب غرناطہ کے چوراہوں میں مسلمانوں کے گھروں مساجد سے اسلامی کتب تلاش کر کے جلائی گئیں تاریخ دان لکھتے ہیں کے غرناطہ کے دریا کا پانی کتابوں کی سیاہی سے کالا ہو گیا
بعد میں آنے والے محقیقین کے مطابق مسلمان علما و مفکرین کے سینکڑوں برسوں کے علمی کام سے استفادہ کی بجائے جلانا تاریخ کا سب دے بڑا بلنڈر غلطی تھی
آج اندلس کے مفکرین کی جو کتب ہم تک پہنچی ہیں وہ وہ کتب ہیں جو کسی نے کسی طرح چھپائے رکھیں یا اس زمانے میں مراکش و دیگر ممالک میں اس کی نقل پہنچ چکیں تھیں
گزشتہ دن ساری مسلمان دنیا میں نئی نسل جشن سال نو میں ناچتی دیکھ کر ایسا لگا جیسے متعصب عیسائی کا وہ منصوبہ آج کامیاب ہو چکا کہ ان کو ان کی تاریخ سے اپنے آبا و اجداد کے کارناموں سے اسلامی تعلیمات سے دور کر دو تو تلوار کی ضرورت باقی نہ رہے گی
فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *