اندلس کا عاشق پاکستانی لیڈر

اندلس کا عاشق پاکستانی لیڈر

پاکستان کا لیڈر جو قرطبہ کا سچا عاشق تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس شخصیت کا تذکرہ آج کرنے جا رہا ہوں ان کی شخصیت پاکستان و افغانستان و ترکی و کشمیرمیں کسی تعارف کی محتاج نہی ان کی ساری زندگی ان ممالک میں اسلامی نظام زندگی کو قائم کرنے کی جہدوجہد میں مصروف عمل رہے جوانی سے لے کر زندگی کے آخری دم تک وہ امت مسلمہ کو غفلت سے بیدار کرنے میں مصروف رہے ان کی زندگی کےہر پہلو پر مختلف اہل قلم کی تحریریں آپ کو نیٹ پر مل جائیں گے لیکن ان کی زندگی کے جس پہلو پر آج میں قلم اٹھانے لگا ہوں اس سے پہلے اس پر کھبی نہی لکھا گیا
قاضی حسین احمد رح نے 1980میں اسپین (اندلس) کا پہلا دورہ کیا اور مسجد قرطبہ و قصر الحمرہ غرناطہ کی سیر کی اندلس میں اسلامی سلطنت کے یہ دو شہکار دیکھ کر ان کے اندر قرطبہ کی اسلامی تاریخ سے مزید محبت بڑھ گئی ان کو اس تاریخ سے آگائی اپنے زمانہ طالب علمی سے تھی اقبال کی اردو اور فارسی شاعری میں موجود نظم مسجد قرطبہ اور طارق بن زیاد کی دعا اور عبدالرحمن داخل کے اشعاروں نے اندلس کی تاریخ کےلئے انکے دل میں مستقل جگہ بنارکھی تھی جس کا ذکر وہ گاہےبگاہے کرتے
تھے

میری اس معلومات کے دو ماخذ ہیں اول ان کے دوراہ اسپین بمقام بارسلونا میں راقم خود موجود تھا جب انہوں نے اپنے پہلے دورہ اسپین کا ذکر کیا
دوئم ؛ ان کی بیٹی محترمہ سمعیہ راحیل قاضی صاحبہ نے مجھ سے گفتگو میں بتایا کہ آغاجان نے اقبال کے اشعار کے ذریعہ اپنے بچوں کے دل میں بھی مسجد قرطبہ اور اندلس کی اسلامی تاریخ سے محبت بھر رکھی تھی اندلس کے پہلے دورہ کی ان یاداشتوں کو محترمہ سمعیہ قاضی نے حال میں ماہنامہ ترجمان القران میں مضمون کی شکل میں شائع کیاہے

قرطبہ صرف ایک شہر کا نام نہی جس سے انہیں محبت تھی بلکہ قرطبہ ایک عہد کا نام ہے جو طارق بن زیاد کے اسپین میں داخلہ 712عیسوی سے شروع ہو کر ابو عبداللہ کے وقت 1492میں سقوط غرناطہ تک ہے

اس دور میں اندلس کی سرزمین پر علما فقہا ماہرین طب و ماہرین فلکیات کی بڑی تعداد پیدا ہوئی اور دنیا کو وہ علم و ہنر دیا جس سے یورپ کی علمی نشات ثانیہ ہوئی اندلس میں ایسے کتب خانے معرض وجود میں آئے جہاں لاکھوں کتب تھیں اور ایسے علمی حلقے قائم ہوئے تھے جہاں یورپ بھر سے تنشگان علم اپنی پیاس بوجھانےآتے تھے
قاضی حسین احمد مرحوم کا خواب تھا کہ پاکستان بھی مانند اندلس علم و ہنر کا گوارہ بن جائے اسلامی نظام زندگی رائج ہو جائے اس کےلئے ملک کے طول و عرض کے دورے کرتے رہے ملک میں نظام کے بدلنے کی جہدوجہد میں سسست روی کو دیکھ کر انہوں نے اپنے خواب کو ایک چھوٹے پیمانہ پر پورا کرنے کےلئےقرطبہ سٹی کا منصوبہ بنایا جو اسلام آباد کے نزدیک موٹروے کے نزدیک ہے ان کی سوچ تھی کہ ایک علم و ہنر اور تحقیق اور اسلامی معاشرت کی نمونہ بستی آباد کی جائے جس میں مسجد قرطبہ کی یاد میں جامع مسجد اور قرطبہ یونیورسٹی قائم کی جائے منصوبہ کا آغاز تو غالبا دو ہزار دو میں شروع کر دیا گیا تھا لیکن مشرف حکومت نے ان کی سیاسی مخالفت کی وجہ سے اس منصوبہ کو قانونی مسائل سے دوچار رکھا قاضی حسین احمد کی وفات کے بعد منصوبہ سست روی کا شکار ہو گیا اس بحث سے قطع نظر کہ منصوبہ سست روی یا تاخیر کا شکار کیوں ہوا قاضی حسین احمد اندلس کے اس معاشرہ کو دوبارہ سے زندہ دیکھنا چاہتے تھے جب مسلمان علم و ہنر کے ہر میدان میں آگے تھے اور مسلمانو ں کے زیرحکمرانی عیسائی اور یہودی اہل علم کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی

(فیاض قرطبی)
بیاد چوتھی برسی چھ جنوری 2017

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *