جنرل مشرف کے دورہ قرطبہ کا تذکرہ

جنرل مشرف کے دورہ قرطبہ کا تذکرہ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط اکتیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن ہم شام کے وقت قرطبہ سینڑ کی طرف جا رہے تھے تو فضا میں ہیلی کوپٹر اڑتے دیکھا جو مسجد قرطبہ کے علاقہ کے اوپر چکر لگا رہا تھا اور سڑکوں پر پولیس کی خاصی نفری تعینات تھی عمومی طور پر جب کوئی سائیکل ریس یا کوئی فنکشن ہوتا ہے تو شہر میں سکیورٹی کے انتظامات کئے جاتے ہیں لیکن اس دن کے سکیورٹی انتظامات غیرمعمولی لگ رہے تھے
شام کو جب ٹی وی لگایا تو لوکل ٹی وی پر خبر چل رہی تھی کہ آج پاکستان کے صدر جنرل مشرف میڈرڈ سے قرطبہ آئے ہوئے ہیں جو مسجد قرطبہ دیکھیں گے اور ساتھ قرطبہ یونیورسٹی میں ایک کانفرنس بعنوان تہزیبوں کا آپس میں تعاون پر طلبہ سے مخاطب ہوں گے
جنرل مشرف کا دورہ اسپین چوبیس اپریل2007 کو شروع ہوا جس میں وزایراعظم اسپین سے ملاقات کے بعد شاہی محل میں بادشاہ سے ملاقات کی اور دوسرے دن پچیس اپریل کو قرطبہ آئے اور یہاں دو دن قیام کیا
مسجد قرطبہ دیکھنے والے یہ دوسرے پاکستانی صدر تھے پہلے صدر سکندر مرزا تھے جو 1958 تشریف لائے تھے یوں نص صدی سے زائد عرصہ کے بعد جنرل مشرف کا دورہ تھا
اس قدر سکیورٹی پہلے کھبی کسی سربراہ مملکت کو نہی دی گئی اس سکیورٹی کا تعلق شاید افغانستان میں امریکہ کا اتحاد ہونا تھا
لوکل اخبارات نے بھی اس دورہ کی کوریج کی اور مشرف سے منسوب یہ بیان بھی شائع کیا مسجد قرطبہ اس دور کی نشانی ہے جب اندلس میں تمام مذاہب کے ماننے والے پرامن طور ایک ساتھ رہتے تھے آج پھر ایسا پرامن ماحول بنانے کی ضرورت ہے
قرطبہ کی مئیر روسا الگیلارAlguilar Rosaکی جانب سے ادرہ برائے فروغ عربی Casa de Arabeمیں دئیے گئے کاکٹیل پارٹی میں زیتون کے حوالہ سے مشرف کا بیان لوکل اخبار نے شائع کیا کہ پاکستان بھی زیتون کی کاشتکاری کررہا ہے کیونکہ وہاں کا ماحول بھی اندلس کے طرح گرم ہے جس پر اندلس صوبہ کے وزیر تجارت نے زیتون انڈسٹری میں جدید ٹکنالوجی سے پاکستان کو مستفید ہونے کی آفر کی
شاہی محل میڈرڈ نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں پاکستان کے صدر کو خوش آمدید کہا گیا ساتھ پاکستان کی اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات کو سراہا گیا اور اسپین حکومت کی طرف سے دہشت گردی خلاف اور خواتین کی حالت بہتر بنانے کےلئے اپنے تعاون کی پیشکش کی گئی
دورہ اسپین میں جنرل مشرف نے پاکستانی کیمونٹی کو بلکل نظرانداز کیا حالانکہ ہمیشہ دنیا کہ ہر ملک کے دورہ میں کیمیونٹی سے ملاقات کرکے ان کے مسائل کے حل کےلئے اس ملک کی حکومت سے سفارش کی جاتی ہے اسطرح کیمیونٹی کے وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے

img_1019

img_1021

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *