قرطبہ میں عیسائی پادری سے ہمارا مکالمہ

قرطبہ میں عیسائی پادری سے ہمارا مکالمہ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط بتیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوران قرطبہ قیام میری تین مختلف عیسائی فرقوں کے مشنری لوگوں سے ملاقاتیں اور مکالمے ہوئے
اسپین میں اکثریت رومن کھیتولک فرقہ کی ہے اور اسپین کی عوام بانسبت انگلینڈ فرانس زیادہ مذہبی ہیں
لیکن اس میں بڑی عمر کے لوگ ورنہ نوجوان تو لادینیت کی جانب راغب ہیں
دوران کالنگ کارڈ کی فروخت کے قرطبہ سے ستر کلومیٹر فاصلہ پر واقع ایک شہر لوسینا Lucena میں ایک پی سی او پر اسکے مالک مائینول Manuel سے ملاقات ہوئی جو ایک پادری تھا اور ایک رفاحی ادارہ بنا کر غیر ملکیوں کی خدمت کررہا تھا پی سی او بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی
دو چار بار جانے کے بعد وہ ہمارا دوست بن گیا ہم سے پاکستان کے کلچر اور اسلام پر گفتگو کرنے لگا
وہ قرطبہ شہر میں کھیتولک پادریوں کے کالج میں لیکچر بھی دیتا تھا اور کھبی کھبار کالج کے بعد ہماری کباب شاب پر آتا اس دوران اس سے یورپ کے خاندانی مسائل پر گفتگو ہوتی اسنےکہا کہ کیتھولک مذہب اسلام کی طرح مضبوط خاندان کا قائل ہے موجودہ راہ روی کا قائل نہی
میں نے مینوئل سے سوال کیا کہ میں نے سنا ہے کہ کیھتولک میں طلاق دینے کی اجازت نہی آیا یہ درست ہے اسنے بتایا کہ بلکل ایسا ہی ہے
میں نے اس سے دوسرا سوال کیا کہ ایسا کیوں ؟
مینوئل کہنے لگا شادی کے وقت مرد یہ حلف اٹھاتا ہے کہ وہ خوشی غمی تندرستی بیماری میں ساتھ بنھائے گا اسلئے طلاق پھر کیوں ؟
میرے اس استسفار پر کہ اگر بیوی پاگل یا مفلوج ہو جائے یا ذہنی ہم آہنگی نہ بنے یا عورت بانجھ ہوتو مرد کو پوری زندگی عذاب میں گزارنی چائیے ؟
مینوئل کہنے لگا یہی تو حلف ہوتا ہے شادی کہ غم خوشی تندرستی بیماری میں ساتھ بنھاناہے
اس پر میں نے اسے کہا کہ آج یورپ میں بنا شادی کے جو جوڑے ساتھ رہ رہے ہیں شادی کا رواج ختم ہو رہا ہے اسکی ایک بڑی وجہ آپ کیھتولک کی یہ سخت پالیسی ہے کیتھولک ایک جامد مذہب ہے جو اپنے معاشرے کے مسائل کو حل نہی کر پا رہا اسکے مقابلہ میں اسلام میں قیاس اور اجتہاد کا آپشن پایا جاتا ہے جس میں جدید دور کے مطابق قوانین اور اصول اپنائے جا سکتے ہیں
بقول مئینوئل یہ خدائی قانون ہے اس میں ردو بدل ممکن نہی کچھ عرصہ بعد ہم اپنے غم روزگار میں زیادہ مصروف ہوگئے اور پادری کو پتا لگ گیا کہ یہاں دال نہی گلنی یہ تو الٹا مجھے تبلیغ کرنے لگ پڑا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *