یورپ میں ڈرائیونگ لائسینس حاصل کرنے کا جھگاڑ

یورپ میں ڈرائیونگ لائسینس حاصل کرنے کا جھگاڑ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط چونتیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یورپ کے تمام ممالک میں لیگل اسٹیٹس کے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل دوسرا مرحلہ ڈرائیونگ لائسینس حاصل کرنا ہوتا ہے اگر آپ کی فیملی ہو یا اپنا کاروبار کرنا چاہتے ہوں تو اسکے بغیر چارہ نہی
یورپ بھر میں اسکو حاصل کرنے کےلئے پہلے تھیوری یعنی لکھ کر امتحان پاس کرنا ہوتا ہے اور اسکے بعد عملی یعنی پریکٹیکل گاڑی چلا کر پاس کرنا ہوتا ہے
انگلینڈ میں یہ امتحان انگلش کے علاوہ اردو ہندی و دیگر زبانوں میں دیا جاسکتا ہے اسلئے وہاں عوام یہ آسانی سے پاس کر لیتی ہے
لیکن اسپین میں یہ امتحان اسپینش میں ہوتا ہے انگلش میں بھی امتحان دینے کا آپشن موجود ہوتا ہے لیکن اسپین کے ڈرئیونگ اسکولز والے یہ پڑھانے سے قاصر ہوتے ہیں وہ خود ہی پڑھنا ہوتا ہے اور انگلش میں بھی ایسے غیر مانوس الفاظ یا کنفیوز کرنے والے جوابات ہوتے ہیں کہ وہ بھی پاس کرنا عام فرد کےلئے ممکن نہی ہوتا
پہلے تین چار سال تو زبان سیکھنے اور کام کرنے میں گزر گئے اسکے بعد بڑے بھائیوں نے اس کی طرف توجہ دینے کا کہا اور ہماری کوشش تھی جتنی دیر ٹل جائے اتنا بہتر ان دنوں ہمارا ڈونر سپلائی کا کام پھیل رہا تھا اور گاہے بگاہے دوسرے شہروں کو مال لے کر جانا پڑتا تھا میری سستی پر بھائی جان کہنے لگے لگتا ہے تم اسلئے نہی پاس کر رہے ڈرائیونگ کہیں ڈیلیوری تم کو لے کر نہ جانی پڑ جائے ویسے اس خدشہ میں کسی حد تک سچائی بھی تھی کہ اگر پاس کر لوں توں یہ آ بیل مجھے مار والی یا اسے چھٹی نہ ملی جسے سبق یاد ہوا والا معاملہ ہو جانا ہے
دو ہزار 2007کےشروع میں گاندیا شہر میں قائم ایک ڈرائیونگ اسکول جس کے ایک پارٹنر پاکستانی اور ایک اسپینش تھے سے رابطہ کیا وہ ایک ماہ اپنے اسکول میں پڑھا کر پاس ہونے کی گارنٹی دیتے تھے اکثر کم پڑھے لکھے لوگ وہاں جاکر پاس بھی ہوئے کیونکہ صبح سے شام تک لگار پڑھایا جاتا تھا ساتھ پنجابی میں ترجمہ اور کچھ ٹریکس سمجھائے جاتے تھے
ہم کام کررہے تھے اسلئے اتنی دور ایک ماہ کےلئے جانا ممکن نہ تھا ان سے بات کی تو انہوں نے ایک حل بتایا کہ اگر پانچ چھ لڑکے اکھٹے کرلیے جائیں تو وہ اپنے کزن کو یہاں پڑھانے کےلئے بھیج سکتے تھے
ہم نے مختلف دوستوں سے بات کی سب اس پر راضی تھے کہ دوسرے شہر ایک ماہ کےلئے جاکر رہنا زیادہ مشکل ہے اسلئے قرطبہ میں ایک ہزار یورو کے عوض تیار کرکے پاس کرنے کی یہ آفر ٹھیک ہے
رقم اچھی خاصی تھی لیکن ہر کسی کی مجبوری تھی کہ لائسینس پاس کئے بغیر گزارہ نہی تھا
پڑھانے والے شاہ صاحب نے صبح آٹھ سے شام چھ بجے تک پڑھانا شروع کیا اسپینش سوالات کو پنجابی میں ترجمہ کرکے سمجھانا شروع کیا کل تیس چیپٹر کا شارٹ کورس تھا ہر چیپٹر میں تیس سوال ان میں سے کوئی تیس سوال آنے تھے جن میں تین غلطیوں کی گنجائش ہوتی ہے شاہ صاحب جو چیپٹر پڑھاتے وہ اپنے بریف کیس میں رکھ لیتے کاپی پینسل سے صرف مشکل الفاظ لکھنے کی اجازت تھی کیونکہ یہ اسپیشل شارٹ چیپٹر تیار کررکھے تھے انہوں نے ورنہ یہ پچاس سے ساٹھ چیپٹر تھے میں نے تو تین دن میں سب چیپڑ پڑھ کر سمجھ لئے البتہ افراد کو آٹھ سے دس دن لگے
امتحان دیا اور پاس کر لیا
میری یاداشت الحمدللہ اچھی تھی میں نے نیٹ میں ویب سائٹس کی مدد سے تیس چیپٹر خود سے کمپیوٹر کے زریعہ ٹائپ کرکے کورس تیار کر لیا اور چار چھ افراد کو پڑھایا جن میں سے تین افراد پاس بھی کر گئے
بعد میں اپنے کاروبار میں اتنے مصروف ہو گئے کہ اسس طرف توجہ نہ دی
پچھلے سال کہ خیال ذہن میں آیا کیوں نہ ڈرائیونگ کے سوالات کو اردو ترجمہ کے ساتھ یوٹیوب پر ریکارڈ کر دیا جائے تاکہ عوام مستفید ہو سکے
تقریبا اٹھائیس چیپٹر ریکارڈ کرکے ویڈیو کی شکل میں شئیر کئے ایک سال میں تقریبا تیس افراد نے اس کی مدد سے امتحان پاس کئے جن میں انڈین سکھ سندھی ہندو نیپال کے لوگ بھی شامل ہیں کیونکہ ان کو بھی اردو کی سمجھ زیادہ آتی ہے بانسبت اسپینش کے
انڈین اور پاکستانی خواتین کو عموما گھروں سے باہر کم نکلتی ہیں اور ان کو اسپینش مردوں کی نسبت کم آتی ہے انہوں نے بھی ان ویڈیوز کی مدد سے ڈرائیونگ پاس کئے مجھے اسپیشل فون کر کے شکریہ ادا کیا
الحمدللہ ہماری چھوٹی سی کاوش سے کتنے خاندانوں کو اسکا فائدہ پہنچا یہ باعث اطمنان ہے ہمارے لئے

img_1091

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *