قرطبہ میں پاکستانی کمیونٹی اور اسکی سرگرمیاں

قرطبہ میں پاکستانی کمیونٹی اور اسکی سرگرمیاں

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط پینتیس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو ہزار ایک سے دو ہزار سات تک ہم تقریبا ہر سال پاکستان اپنے والدین و بیوی بچوں سے ملنے جاتے تھے دو ہزار آٹھ کے وسط میں بھی ہم چھٹیوں کے سلسلہ میں پاکستان مقیم تھے آٹھ اکتوبر کی صبح آٹھ بجے کے قریب والدہ کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک کرسی ہلنا شروع ہوئی اور کچھ سیکنڈ میں کمرہ کے در و دیوار بھی گھومتے نظر آئے اتنے میں والدہ کلمہ شریف کا ورد کرنی لگیں اور ہمیں کہنے لگیں باہر بھاگو باہر بھاگو
چند لمحے کا یہ زلزلہ تھماتو میں نے والدہ سے کہا آپ خود زمین پر بیٹھی ہم کو باہر جانے کی ہدایت کر رہی تھیں اگر چھت گرنا تھی تو آپ تو وہیں فرش پر بیٹھی تھیں لیکن ماں کی ممتا ہمیشہ اپنی ذات پر اپنی اولاد کو ترجیح دیتی ہے ان کا اچانک ناگہانی میں خود کو بچانے سے پہلے اپنی اولاد کو بچنے کی ہدائت بھی اسی ممتا کا فطری ردعمل تھا
ٹی وی لگا کر خبریں سنیں تو شیخ رشید صاحب سب کچھ اچھا ہے کی خوشخبری سنا رہے تھے لیکن جیسے وقت گزرتا گیا زلزلہ کی تباہی کی خبریں بڑھتی جا رہی تھیں کشمیر اور خیبر میں ہزاروں لوگوں کے شہید ہونے کی خبریں آنا شروع ہوگئیں
زلزلہ کے تیسرے دن دینہ سے امداد سامان لے کر ضلع باغ کے متاثرہ علاقہ میں پہنچا تو زلزلہ سے متاثرہ اسکول اور کالج دیکھے زلزلہ میں زیادہ تر سرکاری عمارات گری تھیں اور شہید ہونے والوں میں بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی کچھ دن پاکستان رہنے کے بعد اسپین واپسی ہوئی اور غم روزگار میں محو ہوگئے
اس دوران ہمارا کاروبار کافی مستحکم ہو چکا تھا اور اندلس کے چار اضلاع میں ہم نے اپنے اسٹوربنا لئے تھے جہاں سے ان اضلاع میں کباب کی پراڈکٹس سپلائی کیا کرتے تھے
اسی سال ہم نے قرطبہ میں پاکستانیوں کے مسائل کے حل اور میت کو پاکستان روانہ کرنے کےلئے پاکستانی ایسوسیشن کی بنیاد رکھی یوں تو درجن بھر پاکستانی 1990سے قرطبہ میں مقیم تھے اور 2000 میں مزید لوگ بھی آ گئے تھے لیکن کوئی باقاعدہ منظم پلیٹ فارم موجود نہی تھا جو پاکستانی کمیونٹی کو یکجا کرتا اور مسائل کے حل کےلئے کوشش کرتا
اس ایسوسیسشن کے قیام کے بعد پاکستانی ایمبیسی سے روابط بنے اور انہوں نے میت کی پاکستان منتقلی اور پاسپورٹ کے مسائل کے حل کےلئے تعاون کی بھرپور یقین دہانی کروائی گزشتہ کئی برس سے اس ایسوسیشن کے زیراہتمام چودہ اگست کی تقریب منعقد کی جاتی ہے اور پاکستان میں آنے والی قدرتی آفات کے مواقع ہر فنڈ اکھٹا کرکے پاکستان روانہ کیا جاتا ہے دو ہزار دس کے سیلاب میں ہم نے تقریباچودہ ہزار یورو جمع کئے جو کمیونٹی کی تعداد کے لحاظ سے ایک بڑی رقم تھی پاکستانی کمیونٹی کے علاوہ ہمارے ساتھ کام کرنے والی اسپینیش اور ترک کمپنیوں نے بھی اس میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *