جب ہم بنے اسپینیش

جب ہم بنے اسپینیش

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط سینتیس
—————————————-
اسپین کا قانون ہے کہ دس سال قانونی قیام کے حامل فرد کو اپنی قومیت دے دیتا ہے ان کی پرانی کالونیوں یعنی لاطینی امریکہ کےلئے یہ مدت تین سال ہے
دو ہزار دس کے وسط میں میں ہماری یہ مدت پوری ہو چکی تھی لیکن اپنے کام کاجوں میں مصروفیت کی وجہ سے اور کچھ سستی کی وجہ سے ہم نے قومیت لینے کی درخواست 2012 میں جا کر دی،
اسپین کی نوکرشاہی پاکستانی نوکر شاہی کی طرح سست ہے دفاتر میں کام اپنی مرضی سے کرتی ہے ایسی درخواستوں کو نپٹاتے کئی بار دو سے تین سال کا عرصہ لگ جایا کرتا ہے
تمام قانونی کاغذات مکمل کرکے جمع کروا دئیے گئے جن میں اپنے قیام کے دس سال کا ثبوت اور پاکستان سے نقل پیدائش اور کریکڑ سرٹیفیکٹ وغیرہ شامل تھے کاغذات جمع کرتے وقت ڈسک پر موجود فرد نے چند بنیادی سوالات پوچھے
اب قومیت اپلائی کرنے سے پہلے اسپینیش ثقافت و کلچر کا امتحان اور اسپینش زبان کا امتحان پاس کرنا پڑتا ہے دو ہزار بارہ میں ایسا کوئی قانون موجود نہی تھا
کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل ڈیڑھ سال تک جاری رہا اس دوران خفیہ پولیس اہلکار انٹرویو کرنے بھی آئے
اسپین میں پینتیس سال آمرانہ دور حکومت میں عوام کو کنڑول کرنے کےلئے اس وقت کے آمر جنرل فرانکو نے خفیہ پولیس کا جال بچھا رکھا تھا جمہوری حکومت آنے کے باوجود خفیہ پولیس کا محکمہ اسی طرح متحرک ہے
انٹرویو کرنے والے اہلکاروں کی اوکے کی رپورٹ کے بعد قومیت کا عمل مکمل ہوا اور منظوری کا خط وصول کیا
اس کے بعد اسپینش شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کےلئے پولیس کے متعلقہ دفتر گیا
اسپین کے قانون کے مطابق آپ کے نام کے تین حصے ہوتے ہیں جو کاغذات پر لکھنے ضروری ہوتے ہیں ایک آپکا اپنا نام اور ایک والد کا نام اور ایک والدہ کا ، ہر نئے بچے کے اندراج کے وقت نام ایسے ہی رجسڑ کیا جاتا ہے
ہماری طرح مدت قیام کی بنیاد پر قومیت لینے والوں کے اگر دو نام ہوں تو تیسرا کاغذات سے والدہ کا نام وہ خود ہی پڑھ کر فارمز میں لکھ دیتے ہیں
پاکستانیوں کی اکثریت کے نام کے دو حصوں پر مشتمل ہوتے ہیں جیسے عمران علی یا خالد محمود ایسے پاکستانیوں کے والدہ کے نام کا آخری حصہ بی بی یا بیگم کو ان کے نام کے ساتھ لگا دیا جاتا ہے یوں نئے نام عمران علی بیگم اور خالد محمود بی بی لکھے جاتے ہیں
ایسے کئی پاکستانیوں کے پاسپورٹ دیکھے اور نام سن رکھے تھے ہمارا نام قدرتی طور پر پہلے سے ہی تین حصوں پر مشتمل تھا محمد فیاض احمد اسلئے ہم نے فارم مکمل کئے تو ہم نے اس کو ایسے ہی لکھا کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے والے نے والدہ کا نام لگانے کی کوشش کی تو ہماری مداخلت پر وہ باز آ گیا
پاکستانیوں کی اکثریت زبان پر عبور نہ ہونے کی وجہ سے اسپینیش آئین و قانون میں دئیے گئے حق کو بھی حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں حالانکہ اسپین کے قانون میں نئی قومیت اختیار کرنے والے والدہ کے نام کی بجائے دوسرا نام رکھنے کا حق رکھتے ہیں چونکہ زبان پر عبور اور قانون سے آشنا نہی ہوتے اسلئے وہ ایسے صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں
نیا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ایک ہی دن بنا لائن میں لگے فورا وہیں پولیس اسٹیشن میں لگی پرنٹنگ مشین پر پرنٹ کرکے دے دیا گیا اس سے پہلے غیر ملک ریذیڈنٹ کارڈ پرنٹ کرنے کےلئے تیس دن کا دورانیہ لیا جاتا تھا
اسپینش قومیت ملتے ہی ہمیں محسوس ہوا کہ عملہ کا رویہ اور کارکردگی پہلے سے کہیں بہتر ہے جس کا ہم نے بحثیت غیر ملکی سامنا کیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *