سوشل میڈیا کے گرو ریحان اللہ والا قرطبہ میں

سوشل میڈیا کے گرو ریحان اللہ والا قرطبہ میں

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط انتالیس
—————————————-
قرطبہ شہر و مسجد قرطبہ کا وزٹ کرنے والی شخصیات میں ایک اور اہم شخصیت جن کا ذکر آج کرنے جا رہا ہوں ان کا تعلق کراچی سے ہے سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد ان سے ضرور آشنا ہوں گے
ریحان اللہ والا Rehan Allhawala کے نام سے یہ سوشل میڈیا کے موثر استعمال کےلئے پاکستان میں سیمینار اور لیکچرز کا اہتمام کرتے رہتے ہیں
سوشل میڈیا کے زریعہ تعلیم کے فروغ کےلئے ریحان اسکول Rehan schools ریحان یونیورسٹی اور ریحان لائیبریری جیسے سینکڑوں پراجیکٹس کی نگرانی کررہے ہیں بیرون ممالک پاکستان کے اچھے امیج بنانے کےلئے سوشل میڈیا کو یہ ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے داعی ہیں
دو ہزار چودہ 2014کے شروع میں بارسلونا میں موبائل کے متعلق ایک کاروباری کانفرنس میں شرکت کےلئے اسپین آئے تو قرطبہ کی سیر کےلئے ہم سے رابطہ کیا
ریحان بھائی نے مسجد قرطبہ کی طرز پر مسجد قرطبہ پاکستان میں بنانے کےلئے ایک منصوبہ بنا رکھا تھا اس قسم کی کاپی کرنے کو Repleca کہا جاتا ہے دنیا بھر میں مشہور مقامات کی اس طرح نقلیں بنی ہوئی ہیں اسکا باقاعدہ نقشہ میڈرڈ کے ایک نقشہ نویس سے بنوایا اور اسی سلسلہ میں قرطبہ شہر کے اس وقت کے مئیر سے ملاقات بھی کی
ہماری سوشل میڈیا پر بات چیت تو تھی لیکن یہ پہلے فیس ٹو فیس ملاقات تھی
ریحان بھائی سے اللہ والا نام کے بارے میں استفار کیا کہ یہ آئیڈیا ان کے ذہن میں کیسے آیا اور اس مخصوص نام کا مقصد کیا ہے ؟
انہوں نے بتایا دینا کی آبادی چھ سات ارب ہے اور آپ جیسا نام کے سینکڑوں ہزاروں لوگ دنیا میں موجود ہوتے ہیں گوگل یا سوشل میڈیا میں آپ کو سرچ کیا جائے تو آپ کا نام الگ سے نہی ملے گا لیکن اگر آپ کا نام سب سے الگ ہوا تو فورا تلاش کیا جاسکتا ہے
فیس بک اور سوشل میڈیا کی طاقت اور اسکے مثبت استعمال پر بھی ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی کہ یہ ٹول ہمارے لئے کسی نعمت سے کم نہی ہم دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے لیکچرز اور کتب مفت پاکستان میں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں سن سکتے ہیں دنیا کے دیگر ممالک کے لوگوں سے براراست گفتگو کرکے معلومات حاصل کر سکتے ہیں آنے والے دنوں میں مزید لوگ موبائل سے جڑیں گے اور روز مرہ کے معاملات میں بھی اس ٹکنالوجی سے مستفید ہوں گے اسلئے ہمیں اپنے لوگوں کو اس کے موثر استعمال کی تربیت دینی ہو گی
اسی مقصد کےلئے ریحان بھائی نے پانچ سو میوچل فرینڈ کا ایک ترغیبی پروگرام کا اعلان کر رکھا تھا کہ جس فرد کے ان کے ساتھ پانچ سو مشترکہ دوست ہوں گے اس کو لیپ ٹاپ مفت دیا جائے گا بعد میں اس تعداد کو آٹھ سو اور پھر بارہ سو کر دیا گیا اس نیٹ ورکنگ کا مقصد ہم خیال افراد کو ایک دوسرے کے قریب لا کر ایک دوسرے سے سیکھنے کے عمل کو تیز کرنا تھا

img_1455

img_1441

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *