طیب اردگان کے دیس میں چوبیس گھنٹے

طیب اردگان کے دیس میں چوبیس گھنٹے

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط چالیس
————————————–
پچھلے کچھ سالوں سے ہم پاکستان ہر چار سے چھ ماہ بعد چکر لگاتے ہیں تاکہ والدین اور فیملی سے ملاقات ہو جائے دوہزار تیرا 2013 کو پاکستان سے بذریعہ برادر اسلامی ملک ترکی ٹکٹ کروایا تو استنبول میں چوبیس گھنٹے رکنا تھا
اتاترک انڑنینشل ائیرپورٹ پر اترتے پتا چلا کہ باہر جانے کےلئے ویزہ ائیرپورٹ کے اوپر ہی جاری کیا جاتا ہے جس کی فیس صرف پندرہ یورو ہے سیاحت کے فروغ کےلئے یہ بہت احس اقدام ہے ترکی حکومت کا اسی لئے ان کے ہاں کروڑوں سیاح دنیا بھر سے آتے ہیں
ویزہ کے بعد ترکش ایرلائن کے کاونٹر سے فراہم کردہ ہوٹل کےلئے بس کا معلوم کیا
بس جیسے جیسے شہر کے قریب جارہی تھی ہمیں مختلف پارکوں کے کونوں میں اونچے مینار اور گنبد نظر آنے لگے جن کا طرز تعمیر تقریبا ایک جیسا تھا استنبول شہر کے درمیان بسیں گزرنے کےلئے الگ لائن دیکھی جو میڑو کہلاتی ہے اسی میڑو کی نقل پاکستان میں کی جارہی ہے
ہوٹل پہنچ کر سامان رکھ کر ہم نے چند گھنٹے استنبول کی سیر کی ٹھانی ہوٹل سے شہر کا نقشہ حاصل کیااور سب سے پہلے مشہور صحابی رسول اور مدینہ میں میزبانی کا شرف حاصل کرنے والے حضرت ایوب کے مزار کی طرف بزریعہ بس روانہ ہوا
ترکش زبان میں حضرت ایوب کو سلطان ایوپ Sultan Ayup کہا جاتا ہے جس علاقہ میں مزار واقع ہے اس محلہ کو بھی سلطان ایوپ کہا جاتا ہے رسول عربی کا فرمان تھا کہ جو لشکر قسطنطنیہ(استنبول کا پرانانام) کو فتح کرے گا وہ جنتی ہوگا اس وقت یہ شہر بازطینی سلطنت کا درالحکومت تھا
کئی خلفا نے اپنے بحری لشکر ارسال کئے ایسے ہی ایک لشکر میں حضرت ایوب بھی اسی سال کی عمر کے باوجود شامل ہوئے اور شہر کے باہر لشکر کے پڑاو میں بیماری کا شکار ہو کر وفات پاگئے جب سلطان محمد نے استنبول فتح کیا تو ان کی قبر شہر میں بنا کر مقبرہ قائم کیا
مقبرہ کے ساتھ منسلحق ایک جامع مسجد بھی ہے جہاں جب پہنچا تو خواتین کی ایک بڑی تعداد کو نوافل ادا کرتے دیکھا یہ ایک عجیب منظر تھا کمال اتاترک ائیرپورٹ سے لے کر ہوٹل پہنچتے ترکش خواتین کی اکثریت کو سکرٹ پہنے دیکھا لیکن مزار پر سینکڑوں خواتین باحجاب نظر آئیں جن میں اکثریت بڑی عمر کی خواتین کی تھی
مزار کے بعد بلیو ماسک یعنی نیلی مسجد دیکھنے کےلئے پہنچا یہ مسجد مشہور پرانےگرجا آیا صوفیہ کے بالمقابل اس وقت کے ترکش سلطان نے بنوائی تھی
مسجد کے اردگرد وسیع پارکس ہیں یہ رمضان کا مہینہ تھا اور پارکس میں ایک عجیب منظر دیکھ کر حیران ہوا
ہزاروں لوگ ٹولیوں کی شکل میں کپڑے بچھا کر افطاری کی تیاری کر رہے ہیں بعض فیملیوں کی باحجاب خواتین کے درمیان سکرٹ والی لڑکیاں بھی ہیں اور کئی نوجوان بنا روزہ کھا پی رہے ہیں لیکن اکثریت باحجاب اور روزہ سے تھی پاکستان میں افطار کے وقت شہر ویران ہوجاتے ہیں لیکن یہاں عوام گھروں سے نکل کر پارکوں میں فیملی کے ہمراہ افطاری کو پکنک کے طور پر منا رہی تھی
مختلف سیاح اس منظر کو کیمرہ کی آنکھ میں محفوظ کر رہے تھے ترکش معاشرہ ستر اسی سال سیکولرازم کے زیرسایہ رہا اور یہاں کی فوج نے بڑی سختی سے مذہب کے اظہار پر پابندی رکھی لیکن جسٹس پارٹی نے طیب اردگان کی سربراہی میں عوام کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا تو ترک معاشرہ دوبارہ سے اپنے اصل کی جانب لوٹنا شروع ہوا اور حجاب کو پہننے کی اجازت سرکاری اداروں میں بھی ملی اور معاشرہ بھی بتدریج اسلامی اقدار کا اظہار کرنے لگا
بلیو مسجد کے لاتعداد چھوٹے گنبد اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے مسجد میں داخل ہونے کےلئے صدر دروازے پر پلاسٹک کی ٹوپی ہر سیاح کو مہیا کی جارہی تھی اور جوتے لے کر پلاسٹک بیگ میں ڈال کر محفوظ کئے جا رہے تھے واپسی پر رضاکارانہ فنڈ کے لئے ٹکٹ دیا جارہا تھا جس کی آمدن مسجد کی دیکھ بھال کےلئے استعمال کی جاتی ہے
مسجد کے کچھ فاصلہ پر پارک میں ہی فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد کا مزار بنا ہوا تھا جس کی دیوار پر سلطان محمد کے بارے میں معلومات درج تھیں
استنبول کی قدیم عمارات میں جا بجا فارسی میں عبارتیں لکھیں دیکھیں خلافت عثمانیہ کے دور میں ترکی کا رسم الخط فارسی تھا جسے کمال اتاترک نے آکر بدل کر یورپین بنایا مشہور صوفی شاعر مولانا رومی کا سارا کلام بھی فارسی میں تھا جو کہ ترکی ہی کے شہر قونیہ کے رہنے والے تھے

img_1496

img_1493

img_1492

img_1495

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *