مولانا طارق جمیل کا دورہ قرطبہ اور ہماری میزبانی

مولانا طارق جمیل کا دورہ قرطبہ اور ہماری میزبانی

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط اکتالیس
—————————————
فروری دوہزارچودہ 2014 کو بارسلونا کے ایک دوست نے بتایا کہ پاکستان کے مشہور عالمی مبلغ مولانا طارق جمیل صاحب تبلیغی دورہ پر بارسلونا آئے ہوئے ہیں اور یہاں سے فارغ ہوکر وہ مسجد قرطبہ دیکھنے کے خواہش مند ہیں
انہوں نے بتایا کہ ان کے ہمراہ چھ سات افراد ہوں گے
ہم نے ان کےقیام کےلئے ہوٹل کا بندوسبت کیا اور طعام کا بندوبست اپنے گھر رکھا ہمارا ارادہ تھا کہ مولانا طارق کا قیام گھر میں کروایں اور دیگر افراد کو ہوٹل میں مگر جب مولانا قرطبہ پہنچے اور طعام کے بعد ان کو یہ پلان بتایا تو مولانا نے کہا کہ وہ اپنے ساتھ آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ ہی ہوٹل میں قیام کریں گے یوں اکیلے گھر میں آرام کرنا مناسب نہی
کھانے کےبعد مولانا نے ہم سے کیچن کا پوچھا ہمارے استفار پر کہنے لگے اپنی چائے میں خود اپنے خاص طریقہ سے بناتا ہوں
ہم بھی مولانا کے ساتھ کھڑے ہو گئے تاکہ ان کے خاص طریقہ کو سیکھ سکھیں مولانا نے اپنی جیب سے چاندی کے کاغذ میں لپٹی الائچی کو نکالا اور گرم دودھ میں ڈالا اور چائے کی بتی حسب سابق ڈالی
آگ کو ہلکی آنچ پررکھا یوں مولانا کی اسپیشل چائے تیار ہو گئی
رات کو آرام کےبعد اگلی صبح مسجد قرطبہ کی زیارت کو روانہ ہوئے مسجد کے باہر کھڑے سکیورٹی گارڈ نے داڑھی والے سیاحوں کو دیکھتے ہی اپنی روایتی انداز میں وہ ہدایات دوراہیں کہ مسجد اب چرچ ہے اس میں بغیر ٹوپی داخل ہونا ہے مذہبی رسوم ادا نہی کرنی وغیرہ
جب بھی مسلمان سیاح مسجد میں آتے ہیں تو سکیورٹی اہلکار اکثر ان پر نظر رکھنے کےلئے ان کے ہیچھے گھومتے رہتے ہیں کیونکہ کئی دفعہ ماضی میں مسلمانوں نے اندر نماز ادا کرنے کی کوششیں کی تھیں
مولانا طارق جمیل نے مسکراتے ہوئے ہمیں کہا کہ ان پاگلوں کو یہ معلوم نہی ہماری عبادت بنا جسمانی حرکات کیے تسبیحات سے بھی ہو جاتی ہے ہم نماز کھڑے کھڑے بھی ادا کر سکتے ہیں
مولانا طارق جمیل نے اپنے اس دورہ کی روداد کو پاکستان جا کر اپنی ایک تقریر میں بیان کیا
اس بیان کا لنک درج ذیل ہے جو افراد اس میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اس لنک پر وہ بیان سن سکتے ہیں

img_1442

Molana tariq jameel talks about Masjeday Qurtaba
مولانا طارق کا بیان مسجد قرطبہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *