پاکستان کےسابق وفاقی وزیر اطلاعات کا دورہ قرطبہ

پاکستان کےسابق وفاقی وزیر اطلاعات کا دورہ قرطبہ

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط بیالیس
—————————————-
مسجد قرطبہ اور الحمرا کی سیر کو آنے والوں میں علما و اہل علم کی ایک بڑی تعداد ہوتی ہےاور دفعہ پاکستان کے سرکاری احکام جو یورپ کے کسی ملک میں ٹرینگ کےلئے آئے ہوتے ہیں وہ بھی موقع سےفائدہ اٹھا کر اسپین کی سیر کےلئے آتے ہیں ایسےوفود پاکستان کی میڈرڈایمبیسی کے ذریعہ ہمارے پاس آتے
ہیں انفرادی طور پر کسی دوست کے زریعہ مسجد قرطبہ دیکھنے آتے ہیں آنے والوں میں ایک بات مشترک ہوتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے سنہری دور یعنی اندلس کے بچے کچھے آثار اور اس دور کی عظیم شہکار مسجد قرطبہ اور الحمرا کو دیکھنے کی آرزو رکھتے تھے
مسجد سے وابستگی کا ایک جذباتی پہلو ہر کسی میں پایا جاتا تھا
اگست دو ہزار پندرہ 2015 کو ایمبیسی کے کمرشل اتاشی چدھڑ صاحب کا فون آیا کہ پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات جناب قمر الزمان کائرہ صاحب دوستوں کے ہمراہ مسجد قرطبہ دیکھنے تشریف لا رہے ہیں انہوں نے ہمیں کہا کہ ہم ان کے ہمراہ مسجد دیکھانے جائیں
ویسے تو پیپلزپارٹی کے متعلق پہلے معلوم تھا کہ اس کے اکثر ارکان سیکولر لبرل ہوتے ہیں لیکن یہ گمان تھا کہ مسجد قرطبہ مسلمانوں کے عظمت رفتہ کی نشانی ہے اس سے جو عام مسلمانوں کی جذباتی وابستگی ہے ایسی کچھ وابستگی جناب کائرہ صاحب کو بھی ہوگی
لیکن جب ہم نے ان کو کاوبوائے گیٹ اپ یعن ایک شارٹ پہنے دیکھا تو ہمیں عجیب سا لگا
مسجد چائیے آج چرچ بن گئی ہے لیکن بحثیت مسلمان ہمارے دل میں اس کا احترام موجود ہے
مسجد کے اندر گھومتے ہوئے کائرہ صاحب نے دمشق کے عربی کے طرز تعمیر کی تعریف فرمائی اور پندرہ منٹ میں اپنی سیر مکمل کرکے واپس تشریف لے گئے
مجھے ایسے لگا جیسا یہ ایک نمائشی دورہ تھا جیسے کاغذ کاروائی پوری کئ گئی ہو

img_1547

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *