قرطبہ ہمارا مرکز اور اسکے خاموش مینار

قرطبہ ہمارا مرکز اور اسکے خاموش مینار

دینہ سے قرطبہ ہجرت کی داستان قسط تینتالیس
—————————————
قرطبہ شہر میں ہماری آمد بسلسلہ روزگار ہوئی تھی ہم نے جب فاسٹ فوڈ کی سپلائی کا کام شروع کیا تھا تو کچھ دوستوں کا مشورہ تھا کہ چونکہ قرطبہ ایک چھوٹا شہر ہےاور یہ اسپین کے ایک کونے میں واقع ہے اس سے دوسرے شہروں کا فاصلہ کئی سو کلومیٹر بنتا ہے
اسپین کا درالحکومت میڈرڈ ہے جو جغرافیائی طور پر اسپین کے وسط میں واقع ہے جہاں سے ہر شہر کا فاصلہ تین سے چار سوکلومیڑ بنتا ہے اسلئے بیشتر تجارتی کمپنیوں نے اپنے ہیڈکواٹر میڈرڈ میں بنائے ہوئے ہیں
ہم نے قرطبہ کو ہی اپنا مرکز بنائے رکھنے کا فیصلہ کیا جب بھی کسی بڑی کمپنی چاہئے وہ اسپین کی ہوتی یا جرمنی کی کو جب ہم یہ بتاتے ہم پورے اسپین میں سپلائی کا کام کرتے ہیں اور ہمارا ہیڈکوارٹر قرطبہ میں ہے یہ سن کر اکثر لوگ حیران ہوتے
مسلمانوں نے جب طارق بن زیاد کی سربراہی میں اسپین کو فتح کیا تھا تو اس وقت گوتھک قوم نے اپنا درالحکومت اشبیلیہSevilla کو بنایا ہوا تھا لیکن طارق بن زیادہ نے اسے تبدیل کرکے قرطبہ Cordoba کو اپنا درالحکومت بنایا اور صدیوں یہ شہر مسلم سلطنت اندلس کا درالحکومت رہا
ایک تحقیق کے مطابق اس کی آبادی اس وقت دس لاکھ نفوس تک پہنچ گئی تھی شہر کی فصیل کے باہر کئی مزید محلے آباد ہو گئے تھے الحکم اول اور دوئم نے اپنے دور حکومت میں پوری دنیا کے علما و حکما کو قرطبہ میں اکھٹا کرکے اس شہر کو علم و ہنر کا مرکز بنا دیا تھا
ہم نے قرطبہ کو اپنے کاروبار کا مرکز بنا کر اس کی پرانی عظمت رفتہ کو واپس لانے کی اپنی سی کوشش کی ہے آج بارسلونا ہو یا میڈرڈ اسپین کے کسی شہر میں ڈونر کباب/شوارما کی بات ہو تو قرطبہ کا ذکر لازمی ہوتا ہے کہ اس کا مرکز قرطبہ ہے
دوران قیام قرطبہ جہاں یہاں آنے والے مہمانوں کو مسجد قرطبہ اور مدینہ الزرہ دیکھانے کا شرف حاصل ہوتا رہا وہیں قرطبہ شہر میں جگہ جگہ بکھری مسلم اندلس کی تاریخ کو دیکھنے اور اسکے متعلق مطالعہ کا موقع ملتا رہا اکثر سیاح قرطبہ میں صرف مسجد قرطبہ کو دیکھ کر اگلے شہر روانہ ہو جاتے ہیں ان کو دیگر آثار قدیمہ کا علم ہی نہی ہوتا
میں اپنے فارغ وقت میں اکثر قرطبہ شہر کے قدیم محلوں میں قدیم عمارتوں کے متعلق ریسرچ کرتارہا ہوں کئی قدیم عمارت مسلم دور میں مساجد ہواکرتی تھیں جو آج چرچ کا حصہ ہیں یا کھنڈر بن چکی ہیں
ایسی تقریبا آٹھ مساجد کا کھوج مجھے ملا ان کی تصاویر اور ان کے متعلق تاریخی روایات کا ذکر اگلی قسط میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *