اظہار محبت کا دن

اظہار محبت کا دن

آج افس میں دوست احباب آپس میں ایک دوسرے کو اپنے اپنے پلان بتا رہے تھے کہ انہوں نے اپنی اپنی محبوبہ کےلئے کیا کیا تحفہ خرید رکھا ہے
دوستوں کی باتیں سن کر وہ اپنے خیالوں میں کھو گیا کہ سب دوست اپنی محبوبہ کےلئے خصوصی دعوت اور تحفے کا انتظام کر رہے ہیں کیوں نہ وہ بھی اس ہستی کےلئے کچھ خاص خریدے اور اس کو خوش کرے جو سارا سال اس کا خیال رکھتی ہے اسطرح وہ اپنی چاہت اور محبت کا اظہار کرلے
اسنے سوچنا شروع کیا کہ وہ کونسی شخصیت یا ہستی ہو سکتی ہے جس کےلئے وہ کوئی تحفہ خریدے
سب سے پہلے اس کے سامنے اپنی ماں کا چہرہ آیا اس یاد آیا کہ کہ سردی ہو یا گرمی اس کی ماں بچپن سے اسکا خیال کسطرح رکھتی تھی اس کے لئے پراٹھے کا ناشتہ اور اسکول کےلئے اسے تیار کرنا اور اسکی اسکول کی وردی خود سینا
ماں کی سال ہا سال خدمت اور محبت نے اسکے آنکھوں کو نم کر دیا
ماں کے ساتھ ساتھ اسکے ذہن میں بوڑھے والد کا شفقت بھر ےچہرے کا نقش بھی ابھر رہاتھا اسے یاد آ رہا تھا کہ جب وہ اسکول کےلئے نکلتا تھا تو والد بھی اسی وقت محنت مزدوری کےلئے گھر سے نکلتے تھے اور شام ڈھلے واپس گھر آیا کرتے تھے اور اتوار کو وہ اسکو اپنے کندھوں پر سوار کرکے اسے میلے دیکھانے لے جایا کرتے تھے اور وہاں اسکی من پسند جلیبی اور کھلونےاسے خرید کر دیا کرتے تھے
وہ آفس سے کام ختم کرکے گفٹ شاپ پر گیا اور وہاں سجے تحفے دیکھے جو سرخ رنگ کے دل بنے ہوئے تھے اور کوئی بھالو بنا ہوا تھا اور کہیں کسی چائے والے مگ پر دو دل بنے ہوئے تھے
اور ان اشیاء پر لگی قیمیت دیکھ کر اسکے ہوش اڑ گئے
ابھی مہینہ کا نصف ہوا تھا اور اسکی جیب میں پچھلی تنخواہ سے بچنے والے پیسے بامشکل اتنے تھے کہ جس سے گیس اور بجلی کا بل ادا ہو سکتا تھا
اسنے سوچا کہ یہ تحفہ کونسا ہر ماہ خریدنے ہیں سال میں ایک ہی بار تو خریدنا ہے چلو خیر ہے
اب اس کو یہ سمجھ نہی آرہی تھی کہ اپنی محبوب ہستیوں کےلئے وہ کیا خریدے دوکان میں جو اشیاء سجھی ہوئی تھیں وہ ہر گز ماں اور والد کی عمر کے لوگوں کو دینے والی نہی تھیں
پھر اچانک اسے یاد آیا کہ والدہ نے کچھ دن پہلے ہی اس سے موٹے حروف والے قران پاک کی فرمائش کی تھی اور والد صاحب کی دور کی نظر کی عینک کہیں گم ہوئی تھی اسنے کتاب شاپ سے موٹے حروف والا قران اور عینک شاپ سے والد کی عینک لی اور گھر کی جانب روانہ ہو گیا
دل ہی دل میں وہ بہت خوش تھا کہ آج اسکے والدین کتنے خوش ہوں گے جب ان کے مند پسند تحائف انکو دوں گا
اور شام کو جب گھر میں پہنچتے ہی جب اس نے دونوں چیزیں والدہ کے حوالے کیں تو والدہ کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ ابھرتی دیکھی جو پہلے کھبی نہ دیکھی تھی ماں نے اس کے ماتھے کو چوما تو اس عمل نے اسکو اس بات سے بلکل غافل کر دیا کہ اس کی جیب خالی ہو چکی ہے اور ابھی گیس اور بجلی کے بل ادا کرنے باقی ہیں
دوسرے دن دفتر میں اسکے دوست ایک دوسرے کو اپنی اپنی محبوووں کو دئے گئے تحفوں اور ملاقاتوں کا احوال بیان کر رہے تھے اور اپنی اپنی محبوبہ کے ناز اور نخرے اور گلے شکوے کی داستانیں سنا رہے تھے اور وہ یہ سن کر اپنی محبوب ہستی کے چہرے پر آنے والی خوشی کو یاد کر رہا تھا کہ اسنے جب تحفہ دیا تھا تو اسکے محبوب ہستی نے اسکے ماتھے کو کس محبت سے چوما تھا اور اسکی صحت اور کامیابی کےلئے کسطرح اپنے رب کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگی تھیں اسکے چہرے پر احساس تفاخر سے ایک مسکراہٹ ابھر آئی
اسکے دوستوں نے اسے اکیلے مسکراتے دیکھا تو اس سے پوچھنےلگے کہ جناب کن سوچوں میں گم ہو
کیا محبوبہ سے ملاقات کو یاد کرکے مسکرایا جا رہا ہے
اس بےدوستوں کو ٹالنے کی کوشش کی مگر دوست کہاں ٹلتے ہیں ان کے اصرارکرنے پر اسنے اپنی ماں اور باپ کےلئے خریدے گئے تحائف اور والدین سے ملنے والے پیار اور دعاووں کی تفصیل بیان کر دی
اسکے دوست اس کی بات سن کر شرمسار ہو رہے تھے کہ انہوں نے اپنی کمائی کن فضول چیزوں پر خرچ کی اور کیوں نہ اپنے والدین کی خدمت کی
وہ اس کے اس عمل کو سراہ رہے تھےکہ اس نے اپنے والدین کی خوشی کےلئے جو خرچ کیا اصل محبت تو یہی ہے جسکا اظہار اسنے کیا
یہ سن کر اسے قلبی سکون محسوس ہورہا تھا
از قلم
فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *