قرطبہ کی فضاووں میں محفوظ اذانوں کی آوازیں

قرطبہ کی فضاووں میں محفوظ اذانوں کی آوازیں

گزشتہ گرمیوں میں کام سے چھٹی والے دن یوں ہی آوارہ گردی کا موڈ بنا تو قرطبہ کی قدیم گلیوں کی سیر کو جا نکلا یہ کوئی پانچ بجے کا وقت تھا
ایک پرانے اور کافی بڑے چرچ کے قریب سے گزرنے لگا تو اچانک کانوں میں اذان کی گونج سنائی دی ذہن میں فورا خیال آیا کہ عصر کا وقت ہے اسی کی اذان ہو رہی ہے
لیکن نگاہ اپنے ارد گرد پڑی تو یاد آیا کہ میں کسی مسلم ملک میں نہی ہوں یہ تو اسپین کا شہر قرطبہ ہے اور میں ایک چرچ کے پاس سے گزر رہا ہوں یہاں اذان کی اواز کہاں
شاید یہ میرا وہم تھا اس سوچ کے ساتھ اس تخیل کو جھٹک دیا اور آگے بڑھنے لگا لیکن من میں ایک تجسس ابھرا کہ ایک نگاہ چرچ کے اندر ضرور ڈالنی چائیے
چرچ کے باہر لگے دھاتی بورڈ پر چرچ کے بارے میں جو معلومات درج تھیں اس کے مطابق موجودہ عمارت بارہ سو چھتیس میں فتح قرطبہ کے وقت ایک مسجد کو گرا کر تعمیر کروائی تھی عیسائی بادشادہ فرنینڈو نے
اس چرچ کا نام انگلیسا سان لورینزو Inglesia San Lorenzo درج تھا گلی کا نام بھی یہی درج تھا
اسکے بعد چرچ کے دروازہ سے جب اندر داخل ہوا تو چرچ کی ایک دیوار درمیان سے دوسری تین اطراف سے تھوڑی مختلف نظر آئی یہ ایک مینار تھا جس کے اوپر محراب بنی ہوئی تھی اور واضح لگ رہا تھا کہ یہ ایک پرانا مینار ہے جس کو بطور یاد محفوظ رکھا گیا ہے اور ارد گرد کی دیواریں نئی تعمیر کی گئی ہیں
اس وقت چرچ بلکل خالی تھا میں اس مینار کے قریب پہنچا اور بغور اسکا معائنہ کرنے لگ پڑا مجھے یوں لگا جیسے کوئی مینار کی چوٹی پر کھڑا مجھے گور رہا ہے میں نے اس شخص کو عربی عبا اور عمامہ پہنے دیکھا اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں تو اسنے جواب دیا کہ میں اس مسجد جسکا نام مغیرہ ہے کا مستقل موذن ہوں اور ہر نماز کے وقت ازان دینے آتا ہوں
میں حیرانگی سے اس کی بات سن رہا تھا کہ اس مسجد کو تو چرچ میں تبدیل ہوئے آٹھ صدیاں بیت چکی ہیں پھر یہ کیا ماجرا ہے مجھے حیرت میں ڈوبے چھوڑ کر وہ ہیولہ اچانک غائب ہو گیا
ذہن میں ایک عجیب کشمکش چل رہی تھی کہ یہ واقعی موذن تھا یا میرے ذہن میں تاریخ قرطبہ کا جو نقشہ محفوظ تھا کتب پڑھ پڑھ کر وہ تحت شعور سے ابھر کر مجھے کنفیوز کر رہا ہے ایک سوچ ذہن میں ابھری کہ شاید اذان کی آواز حقیقی تھی کہ یہ جدید سائنس کا کہنا ہے کہ آوازیں فضا میں محفوظ رہتی ہیں ان کی فریکیونسی معلوم ہو تو یہ آوازیں دوبارہ سنی جا سکتی ہیں شاید جو آواز میرے کانوں کو سنائی دی وہ مسجد مغیرہ کے موذن کی وہی آواز ہو جو مسلم دور میں اس نے اذان دی تھی جو قرطبہ کی فضاووں میں ابھی تک گھوم رہی ہے

img_1767

img_1765

img_1766

img_1764

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *