جہد مسلسل سے کامیابی تک کا سفر

جہد مسلسل سے کامیابی تک کا سفر

دیکھنے میں آیا ہے کہ عموما بچے اپنے والدین یا آبا کے پیشہ کو ہی اپناتے ہیں ہم چاروں بھائی شروع سےفطرتا ملازمت کو پسند نہی کرتےتھے اسلئے جب ملازمتیں کی بھی تو ذہن میں یہ تخیل موجود تھا کہ جب موقع ملا اپنا کاروبار کرنا ہے اس تحرک اور تخیل کی ایک وجہ بچپن سے اپنے دادا مرحوم کے کاروبار کے قصے بھی تھے جو ہم اپنے والدین سے سنتے آئے تھے آج ہم آپ کو بھی اپنے دادا کے ان قصوں سے روشناس کرواتے ہیں
ہمارے دادا عبدالطیف کا انتقال ہماری پیدائش سے کوئی دس گیارہ برس قبل انیس سو چھیاسٹھ میں ہو گیا تھا ان کی بابت جو باتیں والد محترم کے زریعہ ہم تک پہنچیں ان سے معلوم ہوا کہ وہ کاروباری ذہن کے مالک تھے پرانے میرپور جو اب منگلا ڈیم کے اندر ڈوب گیا ہے کے ایک گاوں لدھڑ میں پیدا ہوئے وہیں جوان ہوئے اور بمبئی بحری جہاز کی نوکری کےلئے گئے لیکن کچھ عرصہ بعد ملازمت کو خیرآباد کہہ کر واپس آ گئے
اپنی پہلی دوکان ڈوڈیال میں کریانہ کی ایک ہندو سہاوکار سے ادھار لے کر ڈالی
جب دوکان اچھی چلنے لگتی ہندو ساہوکار سود کی ریشو بڑھا دیتا اور جب دادا جی دوکان کے نہ چلنے کا کہتے وہ اپنا قرض واپس کرنے کا مطالبہ شروع کر دیتا انیس چالیس کے لگ بھگ کشمیر سے پاکستان کے شہر سرائے عالمگیر ہجرت کی جو اس زمانے میں کشمیر اور پاکستان کے رابطہ کا زریعہ تھااور کاروباری مرکز تھا
دینہ سے میرپور سڑک اس زمانے میں موجود نہی تھی
سرائے عالمگیر میں چھوٹے موٹے کاموں کے بعد جہلم شہر کے مشین محلہ میں منتقل ہوئے اور وہیں ہندووں کے صابن کے کارخانے میں ملازمت اختیار کی
تقسیم ہند کے وقت مشین محلہ کے ہندو ہمسائیوں نے اپنے مکان ان کے حوالہ کرنے کی پیشکش کی مگر یہ شریف النفس انسان تھے اسلئے اس ذمہداری کو لینے سے انکار کیا کئی دوسرے لوگوں نے وہی جائیدادیں بعد میں قبضہ کرکے اپنے نام کروایں
پاکستان بننے کے بعد جہلم کی غلہ منڈی میں اناج کی آڑت شروع کی جو کہ کامیاب رہی یہ سلسلہ کچھ سال جاری رہا اسی اثنا میں1956 دریائے جہلم میں طغیانی کے باعث سیلاب آیا جس میں دوکان کا سارا غلہ خراب ہو گیا لیکن انہوں نے اپنی کوشش جاری رکھی اور محنت سے دوبارہ کاروبار کو چلا لیا
اٹھاون 58 میں پاکستان کے اندر جنرل ایوب نے پہلے مارشل لا کا اعلان کر دیا جنرل ایوب نے عوام کو اپنا ہمنوا بنانے کےلئے تمام اشیاء خرد و نوش کے سرکاری نرخ مقرر کر دئیے دادا جی نے جو چنے اٹھائیس روپے من خریدے تھے اب ان کی قیمیت اٹھارہ روپے ہوگئی جس سے ان کو بڑے پیمانے پر نقصان ہوا
سیلاب کے بعد مارشل لا کی وجہ سے کئی سالوں کی محنت سے بنایا کاروبار بلکل تباہ ہو گیا
دادا مرحوم نے ہمت نہ ہاری جہلم سے میرپور منتقل ہو کر وہاں صابن کا چھوٹا سا کارخانہ لگا لیا کارخانہ کی پیدوار کو بجائے بیوپاریوں کے بیچنے کے انہوں نے اپنے بیٹیوں کو ساتھ لگا کر شہر کے اندر تین دوکانیں کھول لیں یوں سارا صابن پرچون ریٹ پر براراست گاہک کو فروخت کرتے جس سے منافع کئی گنا ہوتا
انیس سو ساٹھ میں جب انڈیا پاکستان میں دریاوں کے پانی کا مشہور زمانہ معاہدہ سندھ طاس ہوا تو اس کے نتیجہ میں دریائے جہلم پر منگلا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا گیا اس ڈیم کے بننے سے میرپور شہر اور اس کے سینکڑوں گاوں کے باسیوں کو اپنے آباو اجداد کے گھر اور قبریں چھوڑ کر مہاجر ہونا پڑا
دادا جی دینہ شہر منتقل ہو گئے اور دینہ میں صابن کا کارخانہ لگا لیا یہ کارخانہ ان کی وفات انیس چھیاسٹھ کے کچھ عرصہ بند ہوگیا لیکن اس کارخانہ کے اوزار جن میں صابن کے ٹھپے اور کڑچیاں وغیرہ تھیں کو ہم نے اپنے گھر بطور نشانی محفوظ رکھا پایا جن کو دیکھ کر دادا جی کے کارخانے کی یادیں تازیں رہتی تھیں

دادا جی کی کاروباری زندگی کے متعلق والد محترم سےکچھ باتیں سننے کو ملیں جو انتہائی دلچسپ اور کارآمد ہیں
ان کا کہنا تھا
————————————-
(جب تک اپنی بانہیں اور اپنا سرمایہ نہ ہو ذاتی کاروبار نہ کرو)

یعنی ادھار کے پیسہ پر سود ادا کرنا پڑتا ہے اور اگر کام نہ چلے تو سرمایا واپس کہاں سے ادا ہوگا ؟دوسرا اگر اپنے گھر کی ورک فورس ہوگی تو ابتدائی سالوں میں ملازمین کی تنخواہ کی مد میں رقم درکار نہی ہوگی اسلئے کم سرمایا سے کاروبار چلایا جا سکے گا
—————————————-
(تھوڑا مال کھائے مالک کو اور زیادہ مال کھائے گاہک کو)
یعنی چھوٹی دوکان جس میں مال کم پڑا ہو اسکے چلنے کے چانس کم ہوتے ہیں اور گاہک نہی آتے اور مالک اخراجات ہی پورے نہی کر پاتا جبکہ جس دوکان میں سامان بھرا ہوا ہو وہ گاہکوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہے اور گاہکوں کے رش کی وجہ سے وہ منہ مانگے دام بھی وصول کرتی ہے )
————————————-
(کسی کا انتظار کرنے کی بجائے اپنی منزل کی جانب سفر اکیلے ہی کر دینا چائیے ورنہ ساری زندگی انتظار ہی کرتے رہ جاو گے)
سرائے عالمگیر سے میرپور جانے کےلئے اس زمانے میں تانگے چلا کرتے تھے ایک دفعہ خالی تانگے والے کو وہیں چھوڑ کر پیدل جانب منزل بڑھے تو تانگے والے نے کہا کہ کچھ انتظار کر لیں چند سواریں آ جائیں تو چلتے ہیں
انہوں نے کہا میں اپنی منزل کی جانب سفر کے لئے انتظار کرنے کی بجائے پیدل ہی چلتا ہوں جب تم کو سواریں ملیں تو آ جانا راستہ میں سے مجھے ساتھ لے لینا میں انتظار میں وقت ضائع نہی کرتا

از قلم فیاض قرطبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *