ماہر فلکیات الزقالی سے ملاقات

ماہر فلکیات الزقالی سے ملاقات

آج موسم کچھ بہتر ہوا اور سورج کی حدت بڑھی تو دل چاہا کہ اس موسم سے لطف اندوز ہوا جائے
مسجد قرطبہ کے اردگرد والا محلہ جسے یہودیوں کا محلہ بھی کہا جاتا ہے(Juderia) قدیم طرز تعمیر کا نمونہ ہے جس کی تنگ گلیاں اور قدیم عمارات آپ کو اندلس کے ماضی میں لے جاتی ہیں
انہی گلیوں میں گھومتے گھومتے میری نظر ایک عربی عبا اور عمامہ پہنے بزرگ پر پڑی تو قدم انکی جانب خود بخود اٹھ گئے نزدیک پہنچ کر سلام عرض کی اور ان سے مخاطب ہوا کہ آپ کا طرز لباس تو ایسے لگ رہا جیسے آپ ماضی کے اندلس کے کوئی مسلمان عالم ہیں
ان کے چہرے پر ایک ہلکی مسکراہٹ ابھری
کہنے لگے جوان لگتا ہے تم نے تاریخ اندلس گہری نظر سے پڑھ رکھی ہے
میں نے کہا بزرگوار بس تاریخ اندلس کا ادنی سا طالب علم ہوں اسی معلومات کی بنا پر آپ کو دیکھ کر گمان کیا
کہنے لگے تم نے درست گمان کیا میرا نام ابو اسحاق ابراہیم المعروف الزرقالی ہے کیا تم میرا تعارف جانتے ہو ؟
میں نے نفی میں سر ہلایا تو وہ اپنا مکمل تعارف کروانے لگ پڑے
میں دسویں صدی عیسوی 1029میں اندلس کے شہر طلطلیہ Toledoمیں پیدا ہوا تھا میرا اصل نام توکم مشہور ہوا البتہ میرے القاب الزرقال الزرقالی الزرقالہ اور لاطینی میں Arzachel,Arzacel, Arsechieles لکھے جاتے ہیں
اسکی وجہ میری وجہ ماہرت تھی جو کہ دھاتوں پر پانی چڑھانے اور ان کو آپس میں مکس کرنا تھی جسے عربی میں نقش کرنا کہا جاتا ہے یا ماہر نقاش کہا جاتا ہے
میں نے ابتدائی تعلیم قرطبہ کے مختلف اساتذہ سے حاصل کی اورپھر میرا شوق فلکیات اور جیومیڑی میں ہوا اسی موضوع پر میں نے سورج کی پوزیشن معلوم کرنے کےلئے ایک آلہ بھی بنایا جس سے دن اور رات کے اوقات کا تعین بھی کیا جا سکتا تھا
میری سورج کی متعلق تھیوری بھی مشہوری ہوئی جس میں نے ماضی کے ماہرین فلکیات کی غلطیوں کو درست کرکے سورج کی اصل پوزیشن اور محور بتایا جو کہ بارہ اعشارہ چار ہے (آج جدید مشینری کے مطابق سورج کی یہ پوزیشن گیارہ اعشارہ ستہتر ہے11,77)
میری ایک وجہ شہرت میرے بنائے گئے جدول ہیں جن میں سورج چاند کی تاریخوں اور پوزیشینوں کا تعین گیا تھا میرے جدولوں کی کتاب طلطلیہ کے جدول Tabels of Toledo کے نام مشہور ہے اس کی بنیاد پر بعد میں ماہرین فلکیات یورپ نے جدید فلکیات کی بنیاد رکھی
میری چار تصنیفات انہی موضوعات پر بھی مشہور ہو کر لاطینی میں ترجمہ ہو کر یورپ بھر میں مشہور ہوئیں اور متعدد جامعات میں پڑھائی جاتی رہی

۱۔العمل بالصفیحہ الزجیہ ،ما زال مخطوطا
۲۔ التدبیر
۳۔المدخل فی علوم النجوم
۴۔رسالہ فی طریقہ استخدام المشترکہ لجمیع العروض

طلطلیہ جب عیسائی حکمران الفانسو چہارم نے فتح کیا 1085میں تو میں اپنے شاگرد الوقاصی کے ہمراہ قرطبہ ہجرت کر گیا
میری کتب کو بارہویں صدی میں Gerard of Cremona نے لاطینی میں ترجمہ کیا
پندرویں صدی کے جرمن مفکر Jacob Ziegler نے میری کتاب کی تشریح De Revolutionibus orbiun Coelestium کے نام سے تحریر کی
مجھے معلوم ہوا کہ حالیہ دور میں امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے چاند پر ایک حصہ کا نام میرے نام سے منسوب کیا ہے
میری حیات مستعار کی معیاد 1087میں ختم ہوئی

میں بابا جی کی شروع کی گئی کہانی میں اس قدر محو تھا کہ جیسے میں دسویں صدی کے اندلس میں کھڑا ہوں بابا جی کی آواز بند ہوئی تو میں عالم تخیل سے واپس نکلا تو ارد گرد نظر دوڑائی تو کوئی بزرگ نظر نہ آئے
میں ایک بار پھر سورج کی حدت سے لطف اندوز ہونے کےلئے قدیم قرطبہ کی گلیوں کی جانب چل نکلا

img_2276

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *